ایک شخص سفر پر نکلا۔ راستہ میں اس نے کسی جگہ پر ایک خوب صورت مزار بنا ہوا دیکھا۔ اسے دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا کہ اس کی تعمیر پر خوب خرچ کیا گیا ہے۔ اس مزار پر لکھا ہوا تھا کہ جو شخص اس مزار کی تعمیر کی وجہ معلوم کرنا چاہے وہ اس گاؤں میں جا کر معلوم کرے۔ اس آدمی کے دل میں یہ تجسس پیدا ہوا کہ گاؤں میں جا کر اس قبے کی تعمیر کی وجہ معلوم کرنی چاہیے۔
چنانچہ وہ اس گاؤں میں گیا اور لوگوں سے پوچھنا شروع کر دیا۔ وہ جس سے بھی پوچھتا وہ لاعلمی کا اظہار کرتا۔ بالآخر پتہ کرتے کرتے اسے ایک ایسے شخص کا علم ہوا جس کی عمر دو سو برس تھی۔ وہ آدمی ان کے پاس گیا اور ان سے اس مزار کے متعلق سوال کیا۔ اس ضعیف العمر شخص نے بتایا کہ میں اپنے والد سے سنا کرتاتھا کہ اس گاؤں میں ایک زمین دار رہتا تھا۔ اس کے پاس ایک کتا تھا جو ہر وقت اس کے ساتھ رہتا تھا اور کسی وقت بھی اس سے جدا نہیں ہوتا تھا۔ ایک دن وہ زمیندار کہیں سیر کرنے گیا اور اپنے کتے کو گھر پر ہی باندھ گیا تاکہ وہ اس کے ساتھ نہ جا سکے۔ اور چلتے وقت اپنے باورچی کو بلا کر ہدایت کی کہ میرے لیے دودھ کا کھانا تیار کرکے رکھے۔ زمیندار وہ کھانا بڑے شوق سے کھاتا تھا۔ زمیندار کے گھر میں ایک گونگی لڑکی بھی تھی۔ جب زمیندار باہر گیا تو وہ لونڈی اس بندھے ہوئے کتے کے قریب جا کر بیٹھ گئی۔ کچھ دیر کے بعد زمیندار کے باورچی نے اس کے لیے دودھ کا کھانا تیار کیا اور اس کو ایک بڑے پیالے میں رکھ کر اس گونگی لڑکی اور کتے کے قریب لا کر اونچی جگہ پر رکھ دیا تاکہ جب زمیندار واپس آئے تو اس کو آسانی سے کھانا مل جائے۔جب باورچی کھانا رکھ کر چلا گیا تو ایک کالا ناگ اس جگہ پر آیا اور اس اونچی جگہ پر چڑھ کر اس پیالے میں سے دودھ پی کر چلتا بنا۔
کچھ دیر کے بعد جب زمیندار واپس آیا اور اس نے اپنا پسندیدہ کھاناتیار پیالے میں رکھا ہوا دیکھا تو پیالہ اٹھا لیا اور جیسے ہی اس کو کھانے کا ارادہ کیا تو گونگی لڑکی نے بڑے زور سے تالی بجائی اور ساتھ ساتھ زمیندار کو ہاتھ کے اشارے سے بھی کہا کہ وہ اس کھانے کو نہ کھائے۔ مگر زمیندار گونگی کی بات نہ سمجھ سکا اور ایک نظرگونگی کو دیکھ کر پھر پیالے کی طرف متوجہ ہوا۔ ابھی اس نے کھانے کے لیے ہاتھ ڈالا ہی تھا کہ اتنے میں کتا بہت زور سے بھونکا اور مسلسل بھونکتا رہا۔ حتیٰ کہ جوش میں آ کر اس نے اپنی زنجیر بھی توڑنے کی کوشش کی۔
زمین دار کو ان دونوں کی حرکتوں پر تعجب ہوا اور وہ سوچنے لگا کہ آخر معاملہ کیا ہے؟ چنانچہ وہ اٹھا اور پیالے کو رکھ کر کتے کے پاس گیا اور اسے کھول دیا۔ کتے نے زنجیر سے آزادی پاتے ہی اس پیالے کی طرف چھلانگ لگائی اور جھپٹا مار کر اس پیالے کو نیچے گرا دیا۔ زمیندار یہ سمجھا کہ یہ کتا اس کھانے کی وجہ سے بے تاب تھا۔ چنانچہ اپنا پسندیدہ کھانا گرانے پر غصے میں آ کر اس نے کتے کو کوئی چیز اٹھا کر مار دی لیکن کتے نے اب بھی پیالے میں کچھ دودھ بچا ہوا
دیکھا تو اس نے فوراً اپنا منہ پیالے میں ڈال دیا اور بچا ہوا دودھ پی گیا۔ دودھ کا کتے کے حلق سے نیچے اترنا ہی تھا کہ وہ زمین پر گر کر تڑپنے لگا اور کچھ دیر کے بعد مر گیا۔ اب زمیندار کو اور بھی حیرانی ہوئی اور اس نے گونگی لڑکی سے پوچھا کہ آخر اس دودھ میں کیا بات تھی کہ کتا پیتے ہی مر گیا۔ اس وقت گونگی نے اشاروں سے زمیندار کو سمجھایا کہ اس دودھ میں ایک کالا ناگ کچھ دودھ پی گیا تھا
جس کے زہر کی وجہ سے کتا مر چکا ہے اور وہ خود اور کتا اسی وجہ سے تم کو پینے سے روک رہے تھے۔ جب زمیندار کی سمجھ میں ساری بات آ گئی تو اس نے باورچی کو بلایا اور اس کو سرزنش کی کہ اس نے کھانا کھلا ہوا کیوں رکھا تھا۔ اس کے بعد زمیندار نے اس کتے کو دفنا کر اس کے اوپر مزار تعمیر کرا دیا۔ذرا سوچئے کہ کتے کے اندر کتنی وفاداری ہوتی ہے کہ اس نے اپنی جان دے کر اپنے مالک کی جان بچائی۔
ایک شخص نے کسی کو قتل کرکے اس کی لاش کسی کنویں میں ڈال دی۔ مقتول کا کتا واردات کے وقت اس کے ساتھ تھا۔ وہ کتا روزانہ اس کنویں پر آتا اور اپنے پنجوں سے اس کی مٹی ہٹاتا اور اشاروں سے بتاتا کہ اس کا مقتول مالک یہاں ہے اور جب کبھی قاتل اس کے سامنے آتا وہ اس کو دیکھ کر بھونکنے لگتا۔ لوگوں نے جب بار بار اس بات کو دیکھا تو انہوں نے اس جگہ کو کھدوایا۔ چنانچہ وہاں سے مقتول کی لاش برآمد ہوئی اور اس کے قاتل کو سزائے موت دی گئی۔



















































