ایک بزرگ کی خدمت میں ایک آدمی اپنے بیٹے کو لایا اور عرض کیا حضرت! اس کے لیے دعا فرما دیں۔ یہ ایک اچھی عادت ہے۔ پہلے زمانے میں بھی لوگ اپنی اولاد کے لیے اللہ والوں سے دعا کرواتے تھے۔ اللہ کرے کہ ہمیں بھی اللہ والوں کی دعا لگ جائے۔
یہ اور بات ہے کہ لوگ کئی مرتبہ اپنے بیٹوں کو لے کر دعائیں کروانے کے لیے آتے ہیں مگر باپ کی اپنی حالت ایسی ہوتی ہے کہ پہلے اس کے لیے دعا کرنے کو دل کرتا ہے کہ اللہ اس کو ہدایت دے۔ خیر ان اللہ والوں نے اس کے بیٹے کے لیے دعا کر دی۔ ان کے پاس جیب میں کوئی میٹھی چیز تھی۔ انہوں نے نکال کر اس بچے کو دینا چاہی۔ جب انہوں نے وہ چیز بچے کی طرف بڑھائی تو بچے نے منہ پھیر لیا اور اپنے والد کی طرف دیکھنا شروع کر دیا۔ حالانکہ بچپن میں بچے کے اندر میٹھی چیز کھانے کا شوق شدید ہوتا ہے۔ ان بزرگ نے پھر ارشاد فرمایا۔ لے لو، بچے نے پھر اس چیز سے نظریں ہٹا کر اپنے باپ کی طرف دیکھنا شروع کر دیا۔ اس کے والد نے اس سے کہا، بیٹا! حضرت آپ کو چیز دے رہے ہیں، لے لو۔ جب باپ نے اجازت دے دی تو بچے نے ہاتھ بڑھایا اور جب وہ چیز لے لی تو اس بزرگ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ وہ آدمی حیران ہو کر پوچھنے لگا۔ حضرت! آپ کیوں روئے؟ وہ فرمانے لگے کہ ہم سے یہ بچہ اچھا ہے کہ میں نے اس کو ایسی چیز دی جس کی طلب اس کے اندر شدید ہے لیکن اس نے اس چیز کو نہیں دیکھا بلکہ آپ کی طرف دیکھا کہ میرا ابا مجھے کیا کہتا ہے۔ اے کاش! ہم جو گلیوں میں چلتے ہیں اور ہماری نظروں کے سامنے بھی جاذب نظر شخصیتیں آتی ہیں ہم بھی ادھر سے نظر پھیر کر دیکھتے کہ رب تعالیٰ ہمیں کیا کہتا ہے۔



















































