ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

کیا میری حیثیت مکھی کی سی ہے؟

datetime 6  اپریل‬‮  2017 |

ڈاکٹر محمد راتب نابلسی دور حاضر کے ایک جید عالم دین ہیں، شامی ہیں، 1939 میں پیدا ہوئے، بیسیوں کتابوں، سینکڑوں ٹی وی پروگرام اور سیریلز اور ہزاروں خطبات و تقاریر کی وجہ سے عالم عربی میں ایک خاص مقام، بے تحاشہ عزت اور بڑی شہرت رکھتے ہیں۔ آپ کا پسندیدہ موضوع اسماء اللہ الحسنی، شمائل نبوی اور معجزات قران ہیں۔ کہتے ہیں:

ایک بار میری ملاقات اپنے وقت کے ایک نامی گرامی اور ماہر ڈاکٹر سے ہوئی، اس نے مجھے ایک بہت ہی عجیب واقعہ سنایا۔ کہنے لگا: میں اپنے یونیورسٹی کے طالبعلمی زمانے میں ، ایک بار گھر جانے کیلئے اڈے پر پانچ نشستوں والی ایک ٹیکسی کار میں سوار ہوا، ابھی میں پہلا ہی مسافر تھا اس لیئے اگلی نشست پر جا کر آرام سے بیٹھ گیا۔ اتنی دیر میں ایک شخص آیا جس نے میری طرف کا ٹیکسی کا دروازہ کھولا اور مجھے کپڑوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے باہر دھکیل دیا اور خود میری جگہ پر بیٹھ گیا، پچھلی نشستوں پر اس کے دیگر دوست براجمان ہوئے اور انہوں نے ٹیکسی ڈرائیور کو چلنے کا اشارہ کر دیا۔ ڈاکٹر کہتا ہے: کچھ دیر تو اپنی ایسی بے عزتی پر حیران اور ششدر زمین پر پڑا رہا، پھر کھڑا ہوا تو غصے کی شدت سے کانپ رہا تھا۔ کاش یہ لوگ مجھے ویسے ہی اترنے کا کہہ دیتے تو مجھے ایسا کچھ بھی برا نا لگتا۔ کیا میری حیثیت مکھی کی سی ہے؟ کیا میں کوئی اچھوت اور متعدی بیمار ہوں؟ اتنا حقارت آمیز رویہ، اتنی ہتک اور توہین، ایسی ذلالت اور بے بسی!!!! یہ سوچ سوچ کر میں نفسیاتی طور پر مرتا ہی جا رہا تھا۔ ایک بات تو طے تھی کہ آج اگر میری پاس کوئی اسلحہ ہوتا تو میں نے ان سب لوگوں کو بھون کر رکھ دیتا تھا۔ اس روڈ پر اجرتی گاڑیاں بہت کم تھیں اور اگلی ٹیکسی کوئی دو گھنٹے کے بعد پہنچی اور یہ دو گھنٹے میں نے اپنے آپ کو مارتے گزارے۔ اس ٹیکسی پر میں سوار ہوا اور ہمارا سفر شروع ہوا ۔

کچھ دیر کے بعد راستے میں ہم نے ایک انتہائی خطرناک نوعیت کا حادثہ دیکھا۔ صاف عیاں تھا کہ یہاں حادثے کے بعد پہنچنے والے پہلے بشر ہم ہی تھے، ہم سب بھاگ کر اس جگہ گئے کہ دیکھیں کسی کو ہماری مدد کی ضرورت ہو۔ مجھے موقع پر پہنچ کر حیرت کا جھٹکا لگا کہ یہ وہی کار تھی جس میں سے میں باہر دھکیلا گیا تھا ، کار الٹی ہوئی تھی اور اس کے پانچوں سوار مر چکے تھے اور مرنے والے کار کے ڈرائیور سمیت سارے کے سارے وہی لوگ تھے۔ میرے منہ سے پہلے پہلے جو الفاظ نکلے وہ یہ تھے کہ (سبحان من يخرج الحي من الميت ويخرج الميت من الحي)۔ بس لمحے بھر میں ہی میری زندگی بدل کر رہ گئی۔ کہاں میں اپنے آپ میں افسوس کے ساتھ گڑا جا رہا تھا کہ کہاں اب میں مسلسل اللہ پاک کا شکر گزار ہو رہا تھا۔ مجھے اللہ پاک کی حکمت اور اپنی تقدیر پر بے تحاشہ پیار آ رہا تھا۔ اس دنیا میں ہر شخص پر کبھی نا کبھی کوئی مصیبت، مشکل یا امتحانی گھڑی آ ہی جاتی ہے جس پر صبر کرنا پڑتا ہے اور اس کے بعد جو کچھ ہوتا ہے اس پر اللہ کی محبت میں دل ایسے پگھلتا ہے جیسے شمع حدت سے پگھل جاتی ہے۔ انسان ان سب تبدیلیوں پر ایسا ششدر رہتا ہے کہ بس ۔۔۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…