گناہوں کی وجہ سے انسان مناجات کی لذت سے محروم ہو جاتا ہے۔ بنی اسرائیل کا ایک عالم تھا۔ اس سے کوئی گناہ سرزد ہو گیا۔ ایک مرتبہ وہ دعا مانگتے ہوئے کہنے لگا۔ اے اللہ! میں نے تو آپ کی نافرمانی کی مگر آپ نے مجھ پر نعمتیں برقرار رکھیں، یہ تیرا کتنا بڑا احسان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے دل میں بات ڈالی کہ تمہیں اس کی سزا مل رہی ہے مگر چونکہ تمہاری آنکھوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں
اس لیے تمہیں وہ سزا نظر نہیں آ رہی ہے۔ مگر چونکہ تمہاری آنکھوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں اس لیے تمہیں وہ سزا نظر نہیں آ رہی ہے۔ اس نے فوراً دعا مانگی کہ اے اللہ! آپ واضح فرما دیجئے کہ مجھے گناہوں کی سزا کیسے مل رہی ہے؟ اللہ رب العزت نے دل میں بات ڈالی کہ کیا تم محسوس نہیں کرتے کہ جب سے تم نے یہ گناہ شروع کیا ہے ہم نے اسی دن سے تمہیں اپنی مناجات کی لذت سے محروم کر دیا ہے۔



















































