مجاہدین اسلام حضرت خالد بن ولید اور ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ تعالٰی عنہ کی قیادت میں روز افزوں فتوحات سے بہرہ ور ہو رہے تھے۔ سامراجی طاقتوں کی کمر ٹوٹ چکی تھی۔ انہی فتوحات کے سلسلے میں رومیوں کا ایک گروہ کچھ مسلمان عورتوں کو اسیر بنا کر لے گیا۔ ان گرفتار ہونے والی مستورات میں ضرار بن ازور کی بہن خولہ بنتِ ازور بھی تھیں۔ جب آپ کے بھائی کو معلوم ہوا کہ رومی
مسلمان عورتوں کو اسیر کر کے لے گئے ہیں تو آپ حضرت خالد بن ولیدؓ کی خدمت میں خاضر ہوئے۔ حضرت خالدؓ نے فرمایا گھبرانے کی بات نہیں۔ شکار کو ہاتھ سے نہ جانے دو۔ آپ نے حضرت ابو عبیدہ بن الجراحؓ کو دو ہزار کے لشکر کے ساتھ دشمن کے مقابلہ پر روانہ کیا اور خود حضرت ضرار اور چند مجاہدین کے ہمراہ اسیر شدہ عورتوں کی رہائی کے لئے روانہ ہوئے۔ ابھی کچھ ہی فاصلہ طے کرنے پائے تھے کہ مقام استریاق کے قریب گرد و غبار کا طوفان اٹھتا ہوا نظر آیا۔ حضرت خالدؓ نے فرمایا خدا خیر کرے۔ آپؓ نے حکم دیا کہ تمام مجاہدین آنے والی مصیبت کے لئے تیار رہیں۔ ادھر ان عورتوں کا حال سنئیے جنہیں پطرس نے قید کر لیا تھا۔ پطرس جو بولص کا بھائی تھا، بولص مسلمانوں کی قید میں تھا، مسلمان عورتوں اور لوٹ کھسوٹ کے مال کو لے کر استریاق کے قریب فروکش ہوا جب اس نے اطمینان کا سانس لیا تو اس نے حکم دیا کہ مسلمان عورتیں حاضر کی جائیں جب عورتیں حاضر کی گئیں تو اس نے ہر عورت کو دیکھا لیکن اس کی نظرِ انتخاب خولہ پر جا رکی اور اس نے اعلان کر دیا کہ خولہ کا واحد مالک میں ہوں۔ اس میں کوئی مخاصمت نہ کرے اسی طرح ہر شخص نے ایک ایک عورت کو اپنے لئے انتخاب کر لیا۔ مسلمانوں کی غیور ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کو یہ حرکت نہایت ناگوار ہوئی۔ غصہ سے وہ کانپ رہی تھیں۔ لیکن مجبوری ان کی راہ میں حائل تھی۔ سب عورتوں کو خیمہ میں واپس کر دیا گیا۔
حضرت خولہ نے سب اسیر شدہ مسلمان عورتوں کو اکٹھا کیا اور ایک پر جوش تقریر کی کہ ”اے ناموس حمیر و تبع اور اے عمالقہ کی با قیادت صالحات! کیا تم چاہتی ہو کہ روم کے وحشی درندے تم کو اپنی ہوش کا نشانہ بنا لیں؟ اور کیا تمھیں پسند ہے کہ تم انی بقیہ عمریں اغیار کی خدمت گزاری میں صرف کر کے فاتحین عرب پر کلنک کا ٹیکہ لگا دو؟ کہاں گئی تمھاری وہ حمیت و شجاعت، جس کا چرچہ محافل عرب کے لئے باعث سر خروئی اور سر بلندی تھا۔ میرے نزدیک اہلِ روم کے ہاتھوں ہمیشہ ذلت اٹھانے سے یہ کہیں بہتر ہے کہ ہم سب خدا کی راہ میں اپنی حقیر جانوں کا نظرانہ پیش کر دیں اور اپنی قوم کو ہمیشہ کی بدنامی سے محفوظ کر لیں۔“ اس پر عفیرہ نے تمام عورتوں کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا، کہ ہماری دلی خواہش ہے کہ ہمارے خون کا آخری قطرہ تک خدا کی راہ میں بہے، لیکن بلا تدبیر کچھ کرنا اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے، ہم نہتے ہیں۔ حضرت خولہ نے کہا بے شک ہم نہتے ہیں لیکن اللہ کی مدد ہمارے شامل حال ہے، خیمہ کی چوبیں اکھیڑ کر یکبارگی حملہ کر دیا اور یہ کہتی جاتی تھیں کہ دیکھو! سب مل کر رہنا کیونکہ جو بھیڑ گلے سے علیحدہ ہوتی ہے وہ لقمئہ اجل بن جاتی ہے۔ حضرت خولہ نے ایک رومی کے سر پر اس زور سے چوب ماری کہ وہ بے ہوش کر گر پڑا اور کچھ دیر بعد واصل جہنم ہو گیا۔ جب رومیوں نے شکست و ریخت کا یہ عالم دیکھا تو بدحواس ہو گئے۔ بطرس نے حکم دیا کہ ان سب عورتوں کو گھیرا ڈال کر پکڑ لو اور دیکھو خولہ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا۔
مورخین نے لکھا ہے کہ جب بھی کوئی سوار آگے بڑھتا یہ عورتیں بھوکی شیرینیوں کی طرح اس پر ٹوٹ پڑتیں اور اس کی تکہ بوٹی کر ڈالتیں۔ خولہ فرماتیں تھیں ”اے رومیو! آج تمھارے بھیجے ہماری چوبوں سے کچلے جائیں گے۔ آج تمھاری بیویاں رانڈا اور تمھارے بچے یتیم ہو جائیں گے۔ تمھاری عمریں آج کے دن مقطع ہو چکی ہیں۔ “ یہ سنتے ہی بطرس آگ بگولہ ہو گیا اور اس نے اپنے لشکر کو پکارا کہ خرابی ہو تمھاری، تم سے چند عورتیں نہیں پکڑی جاتیں۔ یہ سنتے ہی بہت سے سپاہیوں نے بڑی سختی سے حملہ کیا جس کا انہوں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ خولہ فرماتی تھیں اے مجاہدین اسلام کی ماؤں، بہنو، بیٹیو! اللہ نے تم کو اس قابل سمجھا کہ وہ تمھارا امتحان لے تو تم اب امتحان میں گھبرانا مت۔ یہ سخت حملہ ہو ہی رہا تھا کہ حضرت خالدؓ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ان اسیر شدہ عورتوں کی جستجو میں استریاق کے قریب آ پہنچے اور گردو غبار تلواروں کی چمک اور جھنکار دیکھ کر فرمایا کہ ہمیں جلد از جلد وہاں پہنچنا چاہئے چنانچہ مجاہدین وہاں پہنچے تو دیکھ کر حیران رہ گئے کہ شروفروشانِ اسلام کی بہادر مجاہدہ عورتیں خیمہ کی چوبوں سے رومیوں کے سروں کو کچل کر واصل جہنم کر رہی ہیں۔ جب بطرس نے دیکھا کہ مجاہدین اسلام ان کے تعاقب میں آ پہنچے ہیں تو اس نے بھاگ کر اپنی جان بچانا چاہی۔ حضرت ضرارؓ نے تعاقب کیا اور ایک بھرپور حملہ کیا جس کی وہ تاب نہ لا سکا اور واصل جہنم ہوا۔ مورخین نے لکھا ہے کہ اس جنگ میں مسلمان عورتوں نے متعدد زخمی اور کم و بیش تیس کافروں کو موت کے گھاٹ اتار کر واصل جہنم کیا۔



















































