بوڑھا جناب فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے ملا اور بتلایا کہ میرا نام ابو عقیل ہے، مجھے حضور ﷺ نے دعوت اسلام دی تھی اور میں آپ کے دست مبارک پر ایمان لایا تھا۔ مجھے آپ نے اپنا جوٹھا ستو بھی پلایا تھا۔ اس کا اثر یہ ہے کہ میں اب بھی بھوک اور پیاس کے عالم میں اس کی سیری و سیرابی کو محسوس کرتا ہوں۔ قبول اسلام کے بعد بکریوں کا ایک گلہ لے کر صحرا میں چلا آیا۔
اسے چراتا اور اپنے بال بچوں کی پرورش کرتا تھا۔ میں نماز پڑھتا ہوں اور روزہ رکھتا ہوں مگر اس سال ایسی وبا آئی کہ ساری بکریاں مر گئیں ایک زندہ بچی تھی اسے بھیڑیا اٹھا لے گیا۔ فریادی ہوں۔ آپ میری دستگیری فرمائیں۔ خلیفہ اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ ٹھیک ہے۔ میں چل رہا ہوں۔ آگے پانی کا چشمہ ہے وہاں مجھ سے ملاقات کرو۔ چشمہ پر پہنچ کر آپ اونٹنی کی لگام پکڑے بوڑھے کا انتظار کرتے رہے لیکن جب بوڑھا نہ پہنچا تو آپ نے چشمہ کے محافظ کو حکم دیا کہ بوڑھا آئے تو اس کی اور اس کے اہل و عیال کی کفالت کرنا۔ حج سے واپسی پر میں اس کا مستقل انتظام کر دوں گا۔ حج سے واپسی پر سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ حسب وعدہ چشمہ پر پہنچے تو وہاں سوائے بوڑھے ابو عقیل کے سب لوگ موجود تھے۔ دریافت کرنے پر چشمے کے محافظ نے بتایا کہ آپ کے جانے کے تیسرے دن بوڑھا ابو عقیل آیا تھا۔ اسے سخت بخار تھا تین دنوں کے بعد اس کی وفات ہو گئی۔ خلیفہ زار و قطار روتے ہوئے اس کی قبر پر تشریف لے گئے کہ میں ایک ایسے صحابی کی خدمت نہ کر سکا جس نے رسول اللہ ﷺ کا جوٹھا ستو پیا تھا۔ پھر اس کے اہل و عیال کو اپنے ساتھ مدینہ منورہ لے گئے اور تا دم آخر ان کی کفالت کرتے رہے کہ مسلمانوں کا حکمران مسلمانوں کا خادم ہوتا ہے۔ مخدوم نہیں۔



















































