ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

حضرت شیر کے اوپر سوار ہو کر آ رہے ہیں

datetime 5  اپریل‬‮  2017 |

ابوالحسن خرقانیؒ ایک بزرگ تھے۔ لیکن ان کی ایک آزمائش تھی کہ ان کے گھر میں بیوی بڑی تیز طرار تھی۔ وہ اس پر صبر کرتے تھے اور اس صبر پر اللہ نے ان کو ولایت عطا فرما دی تھی۔ چنانچہ ایک مرتبہ ایک مرید ان سے ملنے کے لیے آیا۔ اس نے گھر جا کر پوچھا کہ حضرت کہاں ہیں؟ بیوی نے کہا کہ کون حضرت؟ کہاں کے حضرت؟ اس نے کہا کہ جی میں ان سے ملنے کے لیے آیا ہوں۔

جواب دیا کہ جاؤ وہاں کہیں جنگل میں بیٹھے ہوں گے۔ وہیں مل لو۔ مرید سمجھ گیا کہ معاملہ ذرا نازک سا ہے۔ چنانچہ وہ حضرت کو ملنے جنگل میں آیا، مگر کیا دیکھتا ہے کہ حضرت شیر کے اوپر سوار ہو کر آ رہے ہیں۔ یہ ایک کرامت تھی۔ جو اللہ نے ظاہر کر دی۔ اب جب اس نے یہ دیکھا کہ حضرت تو جنگل میں شیر پر سواری کر رہے ہیں اور گھر میں بیوی ان پر سواری کر رہی ہے، سوچنے لگا کہ یہ کیا معاملہ ہے؟ جب حضرت ان کو ملے تو حضرت نے بھی ان کو پہچان لیا اور فرمایا کہ دیکھو میں گھر میں بیوی کی اس تکلیف کا بوجھ اٹھاتا ہوں، اللہ تعالیٰ اس شیر کو میرا بوجھ اٹھانے پر لگا دیتے ہیں تو جب یہ بات بتائی تو وہ مرید تو رخصت ہوا لیکن جب حضرت گھر کو آنے لگے تو دعا مانگی کہ اے اللہ! یہ عورت بہت ہی زیادہ غصہ والی ہے اور تیز طرار ہے، اے اللہ کوئی ایسا معاملہ ہو کہ یہ عقیدت والی بن جائے تاکہ دین کے کام میں رکاوٹ نہ رہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک کرامت بخشی کہ وہ ہوا میں اڑنے لگ گئے اور اڑتے اڑتے اپنے گھر کے اوپر سے گزرے۔ جب واپس گھر آئے تو گھر میں داخل ہوتے ہی بیوی نے استقبال کیا کہ بڑے بزرگ بنے پھرتے ہو اور بڑے ولی بنے پھرتے ہو، ولی تو وہ تھا جس میں نے آج ہوا میں اڑتے ہوئے دیکھا۔حضرت نے ان کی بات سن کر کہا کہ اللہ کی بندی وہ میں ہی تو تھا۔ جو یہاں سے اڑ کر گزر رہا تھا۔

میں نے اللہ سے دعا مانگی تھی جب بیوی نے یہ سنا تو تھوڑی دیر سوچ کر کہنے لگی، اچھا، آپ تھے۔ انہوں نے کہا، ہاں ہاں میں ہی تھا۔ کہنے لگی میں بھی سوچ رہی تھی کہ ٹیڑھا ٹیڑھا کیوں اڑ رہا ہے۔ اب سوچئے کہ گھر کیوںآباد ہو۔ لہٰذا منفی سوچ سے بچنے کی کوشش کریں اور مثبت سوچ رکھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…