میں نے پوچھا، ابو سے بات ہو جاتی ہے؟ کہنے لگا وقت ہی نہیں ملتا۔ کافی دن سے بات چیت نہیں ہوئی۔ میں نے کہا بات وقت کی نہیں بلکہ ترجیح کی ہوتی ہے۔ دیکھو میں تم سے ملنے کے لیے آیا ہوں تو تم سب کام چھوڑ کر مجھ سے گپ شپ کر ہی رہے ہو نا؟ کہنے لگا جی یہ تو کرنا پڑتا ہے۔ مگر فون پر تو ظاہر ہے کہ لمبی بات نہیں ہوسکتی۔
میں نے کہا فون کو چھوڑو، اسکائپ پر روزآنہ دوپہر کو یا شام میں دس منٹ ہی ابو سے بات کر لیا کرو۔ میں نے اسے سمجھایا، دیکھو! شاید تمہارا اپنے والد سے بات کرنے کو اتنا دل نہ چاہتا ہو، مگر مت سمجھو کہ دوسری طرف بھی یہی کیفیت ہوگی۔ ہر باپ اپنی اولاد کو نگاہوں کے سامنے رکھنا چاہتا ہے۔ اولاد نگاہوں سے دور ہو تو اسے بے چینی سی محسوس ہوتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ اس کا تم سے اظہار نہیں کرتا۔ مگر یہ چیز ہوتی ضرور ہے۔ گفتگو جاری رکھتے ہوئے عرض کیا، میں تمہیں ایک دلچسپ بات بتاتا ہوں۔ ہمارے والد صاحب بتاتے تھے کہ ہمارے دادا انہیں کہا کرتے تھے باپ کو اپنے بچوں سے جتنی محبت ہوتی ہے، شاید اولاد کو اپنے والدین سے اتنی نہیں ہوتی۔ پھر اس کی وجہ بھی خود ہی بتاتے، کہ یہ اس لیے ہوا ہے کہ باوا آدم نے اپنے والدین نہیں دیکھے تھے۔ چلو میں تمہیں ایک اور قصہ سناتا ہوں۔ ایک جولاہا تھا جس کا ایک نوجوان بیٹا تھا۔ ایک دن اس نے دیکھا کہ بیٹا دھوپ میں لکڑی کاٹ رہا ہے۔ گرمی شدید تھی اس لیے باپ سے دیکھا نہ گیا۔ بیٹے کو کہا، بیٹا، اسے ابھی رہنے دو، ذرا سورج ڈھلے تو پھر کاٹ لینا۔ بیٹے نے باپ کی بات سنی ان سنی کردی۔ جب دو تین بار باپ کے کہنے کے باوجود بیٹا باز نہ آیا تو جولاہا اٹھا اور اپنے دو ڈھائی سالہ پوتے کو اٹھا کر دھوپ میں لا بٹھایا۔ نوجوان جولاہا یہ منظر دیکھ کر تڑپ اٹھا۔ کلھاڑی ایک طرف پھینک کر تیزی سے لپکا تاکہ اپنے بچے کو وہاں سے ہٹائے۔ ساتھ ہی طیش میں آ کر باپ کو بھی دو چار سنائیں:
ابا آپ بھی کمال کرتے ہیں، چھوٹے سے معصوم بچے کو لا کر اس گرمی اور دھوپ میں بٹھایا ہے۔ باپ نے کہا، بیٹا، میں نہ تمہارا دشمن ہوں نہ اپنے اس پیارے سے پوتے کا۔ بس میں تمہیں یہ احساس دلانا چاہ رہا تھا کہ جس طرح تم سے اپنے بیٹے کی تکلیف دیکھی نہیں جا رہی، اسی طرح مجھ سے بھی تیرا دھوپ میں کام کرنا دیکھا نہیں جا رہا تھا۔ والدین کی اپنی اولاد کے ساتھ محبت زمان و مکان کی حدود سے بے نیاز ہوتی ہے۔ وہ اپنے خون کی خوشبو کو صدیوں بعد بھی محسوس کر لیتے ہیں۔ پھر چاہے اولاد کو اس بات کا ادراک ہو یا نہ ہو



















































