ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

قیدی

datetime 5  اپریل‬‮  2017 |

جیل کے احاطے میں کافی رش تھا-ہم چھ دوست یہاں ایک مقامی سیاستدان کو ملنے آئے تھے جس نے ایک مقامی تھانیدار کو گھّسن مار کر قانون کا جبڑا توڑا تھا- مجھے اپنے لیڈر کے نام نہاد گھسُن اور اس کے مابعد سیاسی مضمرات سے کچھ غرض نہ تھی- میں تو بس کسی کہانی کی تلاش میں یہاں چلا آیا تھا- ہر کھڑکی کے پیچھے ایک اسیر کھڑا تھا اور باہر اس کے چاھنے والوں کا ہجوم-

میں نے ایک پیرانہ سالہ ماں کو دیکھا جو آہنی سلاخیں چومتے ہوئے اپنے لعل سے کہہ رہی تھی۔ ببر شیرا! جے چھُٹ جاویں تےبدلہ ضرور لویں مامے دا! اور ببر شیر کسی گہری سوچ میں ڈوبا سر ہلا رہا تھا- بیرک کے آخری پنجرے میں ایک اداس ھستی کھڑی نظر آئی- عمر کوئی پچپن ساٹھ کے لگ بھگ اور چہرے پر تفکّر کے آثار- شکل و صورت سے وہ کوئی زمیندار معلوم ہوتا تھا- شاید اسے ملنے کوئی نہ آیا تھا- مجھے دیکھ کر وہ ہلکا سا مسکرایا- اس کی مسکراھٹ میں چھپا کرب دیکھ کر میں رُک گیا- ازراہ اخلاق میں نے پوچھا ” کی حال اے ۔۔۔۔ مَہر صاب !!” وہ زیرلب کچھ بڑبڑایا جیسے تقدیر پہ شکوہ کناں ہو- ویسے بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے کھڑے کسی شخص سے حال پوچھنا میرے نزدیک ایک انتہائی احمقانہ فعل ہے- میں نے سوچا شاید یہی شخص میری اگلی کہانی کا کردار ہو ، چنانچہ عقل کے گھوڑے دوڑاتے ہوئے دوسرا سوال سوچنے لگا “خیر نال آئے او چودھری صاب ۔۔۔۔ جیل وچ ؟؟ ” کافی سوچ بچار کے بعد میں نے پوچھا- میرے خیال میں یہ سوال بھی انتہائی سوقیانہ تھا- جیل میں بھلا کون خیریت سے آتا ہے- میں نے سوچا کہ اگر یہ شخص بااختیار ہوتا تو میرے اس بے تُکّے سوال پر ضرور مجھ پر شکاری کُتّے چھوڑتا- اس کے چہرے پر تلخ سی مسکراھٹ ابھری اور وہ ایک ٹھنڈی سانس لیکر بولا۔ “قتل دے کیس وِچ !!!! ” میرا دِل زور سے دھڑکا اور میں غیر ارادی طور پر ایک قدم پیچھے ہٹ گیا-

تقریباً ایک منٹ تک فضاء بوجھل سی رہی پھر کڑی ہمت کر کے میں نے پوچھا- “کس نوں قتل کیتا تُسی ؟؟ “میں بے وقوفانہ سوالات کی ھیٹ ٹرک مکمل کر چکا تھا- ظاہر ہے قتل ہونے والا بھی کوئی انسان ہی ہو گا ، ہماری طرح کا جیتا جاگتا انسان- وہ کچھ دیر خاموش رہا جیسے الفاظ جوڑ رہا ہو پھر مختصر سا جواب دیا” جھوٹا الزام ایں ۔۔۔”پھر ۔۔۔ سزا کیسے ہو گئی ؟؟ اس نے ایک اور طویل وقفہ لیا پھر بولا: “سب گواہ میرے خلاف بھگت گئے۔ وکیل وی ٹُھس ہو گیا۔ پارٹی ای بڑی تگڑی سی۔ وکیل جج سب خرید لئے” میں نے تلخی سے اپنے ہونٹ چبائے اور کہا “سخت ناانصافی ہے یہ ۔۔۔۔ میں اس بات کا میڈیا پر چرچا کرونگا ۔۔۔ “کوئی ضرورت نئیں ۔۔۔ سزا میرا حق اے ۔۔۔ اور میں ایس واسطے تیار” “کیا مطلب ؟؟”” کیتا سی میں وی اک معصوم دا قتل ۔۔۔۔ کئی سال پہلے ۔۔۔۔” اتنا کہ کر وہ کچھ دیر سلاخوں کے پار دور کسی مبہم سائے کو گھورتا رہا ، پھر گویا ہوا “میں 35 چک سلانوالی دا زمیندار آں- نہر دے نال میری زمین سی ۔۔۔ رب دا دتّا سب کچھ سی میرے کول ۔۔۔۔ مجھاں ، گاواں ، جھوٹیاں ، کھوتیاں ۔۔۔ بہار سی چار چفیرے ۔۔۔۔اک سال ۔۔۔۔ پوہ دے مہینے وِچ ۔۔۔۔ ساڈی کھوتی نے ایک بچہ دِتّا ۔۔۔ بہت معصوم ۔۔۔۔ پیارا جیہا ۔۔۔۔ چِٹا سفید بتونا !!!!دسویں روز معلوم ہویا کہ کھوتی دا بچّہ اَنہاں ایں ۔۔۔ پیدائشی نابینا ۔۔۔۔ او سارا دن چوکڑیاں بھردا ۔۔۔ تے مونہہ بھار گِردا ۔۔۔۔ کدّی ایس کِلّے نال وجدا ۔۔۔۔ کدّی اوس ٹوہے وِچ ڈِگدا ۔۔۔ کدّی مجھ تھلّے وڑدا ۔۔۔ کدّی جھوٹی وِچ وجدا ۔۔۔ اَنہاں جو سی ۔۔۔۔

اُتوں یار بیلی مجاق کردے ۔۔۔ کہندے صدیقے تیری کھوتی نے پھل وی دتّا تے انھاں ۔۔۔۔ اینوں عینکاں لواء ۔۔۔۔ ایدی اکھاں دا اپریشن کراء ۔۔۔۔ میں ایس سیاپے توں تنگ آگیا ۔۔۔ سیالے دی اک ٹھنڈی رات ۔۔۔ کَکّر پیا سی ۔۔۔ میں اوس معصوم بتونے نوں کناڑھے تے چُکیا ۔۔۔۔ تے سلانوالی نہر وچ جا کے سُٹ دِتّا ۔۔۔۔ اج اسے جرم دی سزا بھگت ریاں واں ۔۔۔۔۔ “ملاقات کا وقت ختم ہو چکا تھا- میں اپنے دل کادرد چھپاتے ہوئے خاموشی سے رخصت ہونے لگا تو قیدی نے آواز دی ۔۔۔”اک گل یاد رکھنا وِیر ۔۔۔۔ گناہ نوں کدّی چھوٹا نہ سمجھیں ۔۔۔ رب دی ذات بڑے حساب رکھدی آ ۔۔۔۔ تے اوس نوں کسے گواہ دی وی لوڑ نئیں ۔۔۔۔۔ “

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…