رسول اللہﷺ مکہ سے نکالے گئے تو آپ نے مدینہ میں ایسی مملکت کا آغاز کیا جس کا ثانی و سایہ دونوں نہیں ملتے۔ امام احمد کو جیل میں ڈالا گیا تو باہر نکل کر اللہ نے امام بنا دیا۔ ابن تمیمہ گرفتار ہوے جیل سے رہائی پہ آپکے پاس زبردست علم و حکمت تهی۔ سرخسی کو اندهے کنویں میں بند کردیا گیا باہر نکلے تو دو جلدوں کی فقہ پہ کتاب لکهی۔ ابن الاثیر کو گهر میں نظر بند کردیا گیا تو آپ نے البدایہ و النہایہ لکهی۔
ابن الجوزی کو بغداد سے نکال دیا گیا تو انہوں نے قرات سبعہ کی تجوید تیار کردی۔ مالک ابن الریب کو بخار چڑها جس نے انکی جان لی بخار میں ایسا زبردست قصیدہ لکها جو دور عباسی شعرا کے پورے پورے دیوانوں کے برابر تسلیم کیا گیا۔ ابو زئیب الہندی کے بیٹے مرگئے تو اس نے بیٹے کا وہ شاہکار مرثیہ پیش کیا جس کو سن کر زمانہ مبہوت ہی ہوکر رہ گیا۔ لوگ حیران رہ گئے زمانے نے داد دی اور تاریخ نے آفرین کہا۔ آپ کے سامنے لیموں کے رس سے بهرا پیالہ پیش کیا جائے آپ اس میں چینی ڈالیں شکنجبی کی بہن تیار ہوجائے گی اور پی لیں۔ بچهو کاٹ لے تو شکر ادا کریں کہ آپ پہ پورا ایک ماہ سانپ کا زہر اثر ہی نہیں کرے گا۔ حالت کیسے ہی کیوں نہ ہو سخت سے سخت کیوں نہ ہو۔ اٹهیں۔۔۔! سجدہ ادا کیجیے۔۔۔!!اور شکر کیجیے۔۔۔۔۔۔!!! فرانس کے انقلاب سے پہلے دو مشہور شعرا کو قید میں ڈالا گیا۔ ایک شاعر منفی رخ پیش کرتا دوسرا مثبت۔ ایک نے کهڑکی سے باہر دیکها تو آسمان پہ چاند تارے نظر آئے تو انکو دیکه کر مسکرایا۔ منفی رخ پیش کرنے والے نے بهی باہر دیکها تو اس کو ایک گرد و غبار میں ایک کچی سڑک نظر آئی اور رنجیدہ ہوگیا۔ ہر مشکل میں خیر کا پہلو بهی ہوتا ہے۔ بہت ممکن ہے کہ تمہیں کوئی چیز ناپسند ہو اور وہ تمہارے لیے اچهی ہو اور ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ القرآن۔ ناامیدی کو اپنے اوپر طاری کرنے دے ایک وقت میں خود آپکو اندازہ ہوجاے گا کہ ناامیدی کے بارے میں جو فرمان ہے کہ ناامیدی کفر هے وہ کتنا سچا اور جهوٹا هے
اور انسان جب ناامید ہوجائے تو شیطان کس تیزی سے اس پہ اٹیک کرتا ہے۔ لہذا اللہ سے رجوع کریں کیونکہ اللہ کے علاوہ ہمارا کون هے جو ہماری فریاد سنے ” مجهے پکارو میں تمہاری پکار سنو گا” القرآن



















































