شعیب اختر کو کون نہہں جانتا ساری دنیا میں اپنی تیز ترین اور جارحانہ باولنگ کے لیے مشہور ہے۔ شغیب اختر سے ایک انٹرویو میں پوچها گیا کہ کہ کوئی ایسا واقعہ ہے جس نے آپ کو غمگین کافی کردیا ہو۔ شغیب اختر تهوڑے خاموش ہوئے اور پهر کہنے لگے۔ راولپنڈی میں جب پریکٹس کرنے اور منتخب ہونے کیلئے سڑکوں پہ بهاگتا تها تو ان دنوں شدید گرمی کا موسم تها۔
راستے میں ایک گنے کا جوس فروخت کرنے والا آتا تها مجهے خود بهی گننے کا رس پسند ہے۔ میں نے اس سے کہا طارق بهائی آپ مجھ سے دوستی کرلے اور مجهے روز جوس کا ایک گلاس فری میں دیا کریں جب میں سٹار بن جائوں گا تو آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ آپکے لیے ایک دم نئی گنے کی رس والی مشین خرید دوں گا۔ طارق بهائی نے جب یہ سنا تو مجهے وہاں سے بهگا دیا کہ چل بهاگ پتہ نہیں تو سٹار بن بهی پائے گا یا نہیں آیا ہے مفت جوس پینے۔ میں ویسے ہی معمول کی طرح سڑکوں پہ بهاگتے ہوئے وہاں سے گزرتا پهر دو تین دن بعد طارق بهائی نے آواز دی ” شعیب ” اور میں انکے پاس چلا گیا تو انہوں نے پوچها “تجهے یقین ہے کہ تو سٹار بن جائے گا؟” ” ہاں بلکل میں ان شاء اللہ ضرور سٹار بنو گا ” میں نے کہا طارق بهائی نے کہا چلو چهوڑو تم روز مجھ سے گنے کے رس کا ایک گلاس پیا کرو باقی اللہ پاک کی مرضی ” پهر میں مسلسل ڈیڑه سال تک ان سے فری میں جوس پیتا رہا ہم دونوں کی دوستی بهی پکی ہوگئی تهی۔ وقت گزرتا گیا اور مجهے ٹیم میں جگہ میں ملی لوگوں نے مجهے سراہا اور میں کرکٹ کی دنیا میں مشہور ہوا۔ انٹرنشنل ون ڈے کهیلنے کا نشہ طاری ہوگیا شہرت نام سب ملنے لگا۔ میں نے سوچا اب مجهے طارق بهائی کے پاس جانا چاہیے اور اپنا وعدہ نبهانا چاہیے۔ میں راولپنڈی آیا طارق بهائی کے گهر گیا بڑا خوش تها کہ طارق بهائی کو میری کامیابیوں کا علم ہوچکا ہوگا دل میں اسکے بهی ارمان ہوںگے کہ شعیب بڑا سٹار بن گیا ہے اب مجھ سے کب ملے گا؟
میں کئی سوچیں لیے دروازے پہ کهڑا تها دروازہ کهلا تو دیکهنے والا حیران کہ شعیب اختر انکے ہاں۔ میں نے کہا کہ میں طارق بهائی سے ملنے آیا ہوں تو علم ہوا انکی وفات ہوچکی ہے ۔ یہ سن کر دل کو بهت تکلیف ہوئی کہ وہ میرے برے وقتوں کا ساتهی تها اور اب جب مجھ پہ اچهے وقت آیا تو چهوڑ کر چلا گیا۔ میں بہت پریشان ہوا کہ آنکهوں سے آنسو بہنے لگے۔ میں نے طارق بهائی کے خاندان والوں کی معاشی حالت دیکهی تو وہ کوئی ٹهیک نہ تهی لہذا میں نے انکو گنے کے رس نکالنے والی مشین کے ساتھ پوری ایک دکان بهی خرید کر دی۔ آج بهی جب دل کرتا ہے تو بچین کی ان یادوں کو تازہ کرنے طارق بهائی کی دکان پہ جاتا ہوں۔



















































