ایک متوکل صاحب اللہ پر توکل کرنے کی محنت کر رہے تھے۔ وہ ایک ویرانے میں عبادت کر رہے تھے۔ انہیں اللہ کی رحمت سے روزانہ کھانا مل جاتا تھا۔ ان کو تین سال تک کھانا ملتا رہا۔ ایک مرتبہ انہیں کھانا ملنا بند ہو گیا۔ تین دن کا فاقہ ہونے کی وجہ سے لاچار ہو گئے۔ چنانچہ کہنے لگے کہ کسی بندے سے جا کر کھانا لانا پڑے گا۔ لہٰذا وہاں سے گئے اور کسی بندے کے در پر جا کر سوال کیا۔
اس بندے نے اس کو تین روٹیاں دے دیں۔وہ روٹیاں لے کر آ رہے تھے کہ راستہ میں ایک کتا ان کے پیچھے لگ گیا۔ وہ اس قدر شدت سے بھونک رہا تھا کہ انہوں نے سمجھا کہ شاید یہ مجھے کھا جائے گا۔ چنانچہ انہوں نے جان چھڑانے کے لیے کتے کو ایک روٹی پھینک دی۔ کتے نے وہ روٹی کھالی اور پھر ان کے پیچھے بھاگا۔ پھر انہوں نے جان چھڑانے کے لیے دوسری روٹی بھی ڈال دی۔ اس نے وہ روٹی بھی کھا لی اور پھر ان کے پیچھے دوڑا۔ ابھی منزل پر نہیں پہنچے تھے کہ کتا پھر ان کے پاس پہنچ گیا۔ چنانچہ انہوں نے جان چھڑانے کے لیے تیسری روٹی ڈالی تو ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ تم کتنے ظالم ہو کہ میرے لیے ایک روٹی بھی نہ بچائی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے کتے کو بات کرنے کی توفیق عطا فرما دی۔ جی ہاں! جب اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں تو بلوا دیتے ہیں۔ کتے نے ان سے کہا ’’میں ظالم نہیں ہوں بلکہ تم ظالم ہو۔‘‘ انہوں نے کہا کہ وہ کیسے؟ کتا کہنے لگا وہ اس طرح کہ آپ کا مالک آپ کو تین سال تک ایک ہی جگہ بٹھا کر رزق دیتا رہا۔ پھر تین دن روٹی نہ ملی تو آپ نے رب کا در چھوڑ کر کسی اور کے دروازے پر جا کر دستک دی اور مجھے دیکھو کہ میرا مالک مجھے کئی کئی دن روٹی نہیں ڈالتا، میں بھوکا تو رہ لیتاہوں مگر مالک کا در کبھی نہیں چھوڑتا۔



















































