میں ٹیکسی کا کرایہ ادا نہیں کر سکتی تھی ،اسی کشمکش میں بارش سے بچنے کے لئےقریب ہی ایک دوکان کے چهپر کے نیچے کهڑی ہو گئی ،بچے کو اپنی چادر میں سمیٹ لیا ،پهر بهی وہ سردی سے کپکپا رہا تها ، جہاں میں کهڑی تهی ،وہاں ساتھ ہی سڑک پر بہت بڑا پلازہ ہے ، جہاں اس وقت کافی رش تها ، اندر جانے والوں کی گاڑیاں لمبی قطار میں میرے سامنے کهڑی تهیں، تبهی ایک گاڑی سے ایک خوش پوش خاتون نکلی
،اس کے نوکر نے جلدی سے چهتری کهولی اور وہ اس کے ساتھ پلازہ میں چلی گئی ، تهوڑی ہی دیر بعد واپس آئی تو اس کے ہاتھ میں دو پیکٹ تهے ،میری طرف بڑهاتے ہوئےبولی ، میری گاڑی میں بیٹھ کر اپنے بچے کو یہ گرم کپڑے پہنائو اور خود بهی اپنی گیلی چادر اتار کر یہ اوڑھ لو جو میں لائی ہوں، میں حیرت سے منہ کهولے بے یقینی کے عا لم میں اسے دیکهتی رہی ،پتہ نہیں ،وہ کب سے گاڑی میں بیٹهی مجهے دیکھ رہی تهی ۔میری حیرانی پر مسکرائی اور کہنے لگی۔ جلدی کرو ،تمہارا بچہ بیمار ہے ،کہیں اس کی طبیعت ذیادہ نہ بگڑ جائے۔ میں نہیں بتا سکتی ،اس وقت میری کیا کیفیت ہوئی، اللہ غریبو ں کی یوں بهی سنتا ہے اس کی عنائیتوں پر ایمان پختہ ہو گیا ۔پهر اس نیک عورت نے میری جهگی کا پتہ پوچها اور ڈرایئور سے کہا کہ ٹیکسی روک کر اسے بٹهائو اورکرایہ ادا کر دو ،یوں میں بچے کو لے کر گهر آگئی،ایسی نیک عورت کو میں اپنی دعائوں میں کیسے بهول جائوں؟ سب امیر لوگ برے نہیں ہوتے! اور نہ ہی سب غریب اچهے ہوتے ہیں، بات تو احساس کی ہے ، جسے اللہ نیکی کی توفیق عطا کرے ،وہی شہنشاہ ہے۔



















































