ایک صاحب نے خواب دیکھا کہ حشر بپا ہے اور ان کو بخش دیا گیا ہے،، آنکھ کھلی تو ان کو کوئی خاص خوشی محسوس نہ ہوئی، سوچا یہ تو ہونا ہی تھا، ہم نے بھی کوئی کم عبادتیں تو نہیں کی ہوئی ناں ! اگلی رات آئی تو پھر خواب شروع ہوا ! اب کہ فیصلہ تبدیل کر دیا گیا اور حکم دیا گیا کہ اسے جہنم کی طرف لے جاؤ!
قافلہ جہنم کی طرف رواں دواں تھا تو ان کو زور کی پیاس لگی ! بار بار پانی مانگ رہے ہیں اور ایک ہی جواب ملتا ہے کہ پانی رستے میں نہیں وہیں چل کر کھولتا ہوا ملے گا! جب وہ بہت زیادہ گڑگڑائے تو اللہ پاک نے فرمایا ” اسے روک لو اور ٹھنڈا پانی لاؤ،، پانی آ گیا،، گلاس کے باہر بھی ٹھنڈک سے پسینہ نما قطرے بنے ہوئے تھے،، پیاس مزید بھڑک اٹھی،، اللہ نے فرمایا، “اس سے اس کی عبادت لکھوا لو اور بدلے میں پانی دے دو! بندے نے جَھٹ ساری عبادت لکھ کر دے دی اور پانی کا گلاس لے کر پی لیا ! اب اللہ پاک نے فرمایا کہ اسے واپس لے آؤ! اللہ پاک نے فرمایا،، “تو نے اپنی عبادت کا مول خود ایک گلاس پانی لگایا ھے اور بیچ بھی دی ہے ! اب وہ پانی جو تم نے دنیا میں ایک گلاس سے اضافی پیا ہے ، اس کا حساب کون دے گا ؟ اور جو باقی نعمتیں استعمال کی ہیں ان کا حساب کون دے گا ؟ آدمی کی آنکھ کھل گئی۔ اب اسے احساس ہوا کہ وہ کتنی بڑی غلط فہمی میں مبتلا تھا ! اس نے زارو قطار رو رو کر اللہ سے معافی مانگی! اپنی عبادتوں کو محض اللہ کی توفیق سمجھیں اور کبھی دل میں یہ خیال نہ لائیں کہ مجھے جو کچھ مل رہا ہے یہ میری عبادت کا صلہ ہے ۔ ہماری ساری عبادتیں مل کر بھی اللہ کی کسی چھوٹی سی نعمت کا بدلہ نہیں بن سکتی اس لیے اللہ کی جتنی نعمتیں مل رہی ہیں اسے اللہ کا احسان سمجھیں اور ہمیشہ اسکا شکر ادا کرتے رہیں۔



















































