حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی نے بتایا کہ بیرون ملک ایک آدمی کہنے لگا کہ اگر کوئی صرف کلمہ پڑھ لے کیا وہ جنت میں جائے گا۔ میں نے کہا ہاں! انشاء اللہ جنت میں جائے گا‘ گنہگار ہو گا تو اس کو سزا ملے گی بالآخر جنت میں جائے گا اس نے کہا کہ ایک آدمی اگر کلمہ نہ پڑھے‘ فقیر نے کہا کہ وہ جنت میں نہیں جائے گا‘ کہنے لگا اگر کلمہ نہ پڑھے اور بڑا نیک ہو مثلاً اس نے روشنی ایجاد کی‘ بلب کا موجد بنا‘ مہمان خانے بنوائے‘
اچھے کام کئے پھر بھی وہ انسان جنت میں نہیں جائے گا‘ فقیر نے کہا پھر بھی نہیں جائے گا‘ نے کہا دیکھیں یہ کتنی نا انصافی ہے‘ کیا اسلام میں عدل نہیں ہے؟ میں نے کہا کیوں؟ کہنے لگا ایک آدمی گنہگار ہے کلمہ پڑھ لیتا ہے اس کو جنت میں بھیج رہے ہیں لیکن ایک آدمی سارے اچھے کام کرتا ہے صرف کلمہ نہیں پڑھا تو اسے جہنم میں بھیج رہے ہیں۔ فقیر نے کہا کہ ہاں بھئی اصول تو یہی ہے کہنے لگا کہ یہ اصول فطرت کیخلاف ہے۔ میں نے کہا دیکھو بھائی ہم آج کل جو ریاضی پڑھتے ہیں جس پر ہماری سائنس کی بنیاد ہے جس پر ہم کہتے ہیں کہ فطرت کے قوانین لاگو ہیں اسی کی مثال دی جاتی ہے‘ فرض کریں کوئی آدمی اگر ایک کاغذ لکھ دیتا ہے اور پھر اس کے دائیں طرف زیرو‘ زیرو لکھتا چلا جاتا ہے تو ہر زیرو جو لگتی چلی جائے گی وہ اس کی ویلیو کو بڑھاتی چلی جائے گی جتنی زیرو لگاتا جائے گا ویلیو بڑھتی جائے گی‘ اگر یہ آدمی ایک لگانا بھول گیا یا نہیں لگاتا اور صرف زیرو‘ زیرو لگاتا چلا جاتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ دیکھو جی میں نے تو دس ارب زیرو لکھ دیئے تو اس کی ویلیو تو زیرو ہی ہے کہا جائے گا کہ ان تمام زیرو کی ویلیو تو اس ایک کی وجہ سے ہونی تھی جب آپ نے ایک ہی نہ لکھا تو آب چاہے جتنی مرضی زیرو لکھتے رہو اس کی کوئی ویلیو نہیں‘ اسی طرح جب آپنے ایک ہی نہ لکھا تو آب چاہے جتنی مرضی زیرو لکھتے رہو اس کی کوئی ویلیو نہیں‘ اسی طرح جو ایک اللہ کو نہیں مانتا تو پھر اس کے کاموں کی ویلیو بھی زیرو ہوتی ہے۔
جب تک کہ ایک اللہ وحدہ لا شریک کو نہ مانے‘ وہ کہنے لگا کہ بات تو آپ نے ٹھیک کی۔ مجھے بات سمجھ میں آ گئی‘ فقیر نے کہا کہ اچھا اب ایک دوسری مثال سمجھیں کہ جو انسان کلمہ پڑھ لیتا ہے تو وہ گویا اللہ رب العزت کے خالق کائنات‘ مالک کائنات اور وحدہ لا شریک ہونے کا اقرار کر رہا ہوتا ہے یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ وہ کسی ملک کے اندر ہے اور بادشاہت کی بادشاہت کو تسلیم کر لے مگر گنہگار ہو تو بادشاہ تھوڑی بہت تو سزائیں دیتا رہتا ہے یا اس کو تنبیہہ کرتا رہتا ہے مگر اسے اپنا شہری بننے کا موقع دیتا ہے ایک آدمی بادشاہ کا غدار ہو اور ہے کہ بادشاہ کو تسلیم ہی نہیں کرتا وہ تو اسے پھر کبھی بھی اپنے ملک میں رہنے کی اجازت نہیں دے گا‘ کہے گا کہ اس آدمی کا تو فوراً سر قلم کر دینا چاہئے۔ بات ایسی ہی ہے کہ اللہ رب العزت نے ہم لوگوں کو کلمہ کی نعمت عطا کی ہے اللہ تعالیٰ کا تصور بڑی نعمت ہے۔



















































