کسی صاحب کے گھر میں سیب کا ایک درخت تھا‘ وہ صاحب ایسیڈ ٹی کے مریض تھے لہٰذا وہ خود سیب نہیں کھا سکتے تھے لیکن وہ سیب کے اس درخت کی محبت میں گرفتار تھے چنانچہ وہ کسی دوسرے کو بھی درخت کو ہاتھ نہیں لگانے دیتے تھے‘انہوں نے درخت کی حفاظت کیلئے ایک مالی رکھا ہوا تھا‘ وہ صاحب جب گھر سے باہر جاتے تھے تو مالی اس درخت کی حفاظت کرتا تھا‘ یہ مالی ذرا سا بددیانت شخص تھا چنانچہ جونہی وہ صاحب گھر سے باہر قدم رکھتے تھے مالی اپنے ایک دوست کوبلوا لیتا اور وہ دونوں مل کر سیبوں کو انجوائے کرتے۔ ایک دن درخت کے مالک نے مالی اوراس کے دوست کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔
اس نے مالی کے دوست کو پکڑا‘ زمین پرگرایا اور اس کی چھاتی پر بیٹھ گیا‘ مالی ایک سائیڈ پر کھڑا ہو گیا اورچلا چلا کر اپنے مالک سے کہنے لگا ‘سر اس کو ماریں‘ اس کو اور ماریں۔ جونہی آپ گھر سے باہر نکلتے تھے یہ روز سیب توڑنے کیلئے آ جاتا تھا۔ ماریں اور ماریں۔مالک ملزم کو مارتا رہا۔ اس دوران سیب چور نے زور لگایا‘ مالک کو نیچے گرایا اوراس کے سینے پر چڑھ کر بیٹھ گیا۔ مالی نے اپنے چور دوست کو جیتتے ہوئے دیکھا تو اس نے فوراً اپنا موقف بدل لیا‘ اس نے تالیاں بجائیں اور اونچی آواز میں بولا مارو مارو‘ اس کو مارو‘ بے وقوف شخص نہ خود سیب کھاتا اور نہ کسی کو کھانے دیتا ہے۔ یہ ہے ہی اسی قابل۔یہ مالی بنیادی طور پر ایک خاص قسم کے انسانوں کی ایک خاص نفسیات کو ظاہر کرتا ہے۔ دنیا میں بے شمار ایسے لوگ ہیں جو ہمیشہ جیتنے والوں کا ساتھ دیتے ہیں‘ ان لوگوں کا فلسفہ ہے ”جو جیت گیا وہی ہمارا ہیرو ہے“ اس قسم کے کریکٹر ہمیں عام زندگی میں تو کثرت سے دکھائی دیتے ہی ہیںلیکن ہماری سیاست بھی ایسے کرداروں سے بھری پڑی ہے۔ یہ لوگ اپنے باس‘ اپنے لیڈر اور پارٹی کے سربراہ کے اشارے پر نا صرف اپنا موقف بدل لیتے ہیں بلکہ حلف تک سے منحرف ہو جاتے ہیں۔ پاکستان میں ایسے ایسے سیاستدان بھی گزرے ہیں جو اپنی جیبوں میں دو متضاد تقریریں رکھ کر پارلیمنٹ میں جاتے تھے اور دوران تقریر اگر ان کے باس کے چہرے پر ناگواری کے تاثرات ابھر آتے تو وہ فوراً یہ تقریر جیب میں ڈال لیتے اور دوسری جیب سے اس سے بالکل الٹ تقریرنکال کر پڑھنا شروع کر دیتے۔
میںنے اکثر دیکھا جب کسی پارٹی کا سربراہ مسکراتا ہے تو پارٹی کے تمام عہدیدار‘ وزراءاور مشیر منہ پھاڑ کر ہنسنا شروع کر دیتے ہیں اور جب باس افسردہ ہوتا ہے تو سب وزراءکی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں۔ آپ کو ایسے وزیربھی نظر آئیں گے جو پارٹی سربراہوں کی بچیوں کی گڑیاﺅں کی شادی پر مبارک باد دیتے ہیں اور ان کے کتوں کی موت پر آنسو بھی بہاتے ہیں۔
اس کی وجہ کیا ہے ؟ اس کی وجہ بہت سادہ اور سیدھی ہے۔ ہماری سیاست سے بنیادی طور پر ضمیر اور ذاتی رائے خارج ہو چکی ہے۔ ہمارے پولیٹیکل ورکز جوں جوں ترقی کرتے جاتے ہیں وہ اپنی رائے اور اپنے ضمیر سے دست بردار ہوتے چلے جاتے ہیں اور وہ زندگی کو اپنے باسز کی عینک سے دیکھنے لگتے ہیں۔



















































