ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

ایک انچ آبلے کے بدلے پنتیس ہزار ڈالر

datetime 9  فروری‬‮  2017 |

ایرینا جیڈی سائوتھ کیرولینا میں شرٹس کے بٹن بنانے والی فیکٹری میں ملازم تھی۔ اُس دن بھی وہ معمول کے مطابق فیکٹری گئی اور اپنا کام شروع کیا۔ کام کے دوران ایرینا جیڈی کے داہنے ہاتھ کی شہادت کی انگلی معمولی سی جل گئی۔ ایرینا کی انگلی کی پور پر ایک چھوٹا سا آبلہ پڑ گیا۔ جس کی وجہ سے ایرینا جو ایک اور آفس میں کمپیوٹرآپریٹر کے طور پر کام کرتی تھی اسے وہاں سے چھٹی کرنا پڑی۔

اس آبلے کی وجہ سے ایرینا جیڈی کو ٹائپ کرنے میں دِقت پیش آرہی تھی۔ اسی ایک دن کی چھٹی کو بنیاد بنا کر اس آفس کے مالک نے ایرینا کو نوکری سے برخاست کردیا۔ اس چھوٹے سے آفس کے ساتھ ایرینا کا کنٹریکٹ اس نوعیت کا تھا کہ ایرینا جواب میں قانونی طور پرکچھ بھی نہیں کر سکتی تھی۔ اچانک ایک نوکری چلے جانے کی وجہ سے ایرینا پر مالی بوجھ پڑ گیا۔ ایرینا جیڈی جو اپنے ۷ اور ۸ سال کے ۲ بچوں کی واحد کفیل تھی۔ اس مالی دبائو کی وجہ سے اس ماہ اپنے ایک کمرے کے اپارٹمنٹ کا کرایہ بھی نہیں دے سکی۔ جس کے باعث اپارٹمنٹ کے شرابی مالک نے ایرینا کو سخت برا بھلا کہا۔ایرینا کو اپنے داہنے ہاتھ کی شہادت کی انگلی کی پور پر پڑنے والے آبلے کے باعث اس ایک معمولی، کم از کم پاکستان جیسے معاشرے کے لیے انتہائی معمولی واقعے (پاکستان میں تو کوئی اسے حادثہ بھی تسلیم نہیں کرے گا) کے باعث شدید ذہنی اذیت اور کوفت سے دوچار ہونا پڑا۔ یہی ایک انچ کا معمولی سا آبلہ اس کی دوسری نوکری جانے کا باعث بھی بنا جس کی وجہ سے اس کی چھوٹی سی فیملی پر شدید مالی دبائو آیا۔ ایرینا کو اس کی ساتھی ورکر نے یہ احساس دلایا کہ یہ حادثہ بٹن بنانے والی فیکٹری جس میں وہ کام کرتی ہیں، میں ان کے نظام میں خرابی کے باعث پیش آیا۔

قصہ مختصر ایرینا نے بٹن بنانے والی فیکٹری اور اس کے مالک پر کیس کردیا۔پاکستان جیسے ملک میں اگر یہ واقعہ پیش آیا ہوتا اور کسی کی انگلی کی پور پر ایک انچ تو کیا پورے وجود پر بھی آبلے پڑ گئے ہوتے اور اگر ورکر یہی مقدمہ کرنے کا فیصلہ کرتا جو ایرینا نے فیکٹری مالک کے خلاف کیا، توا یسا سوچنے والے کے اہل خانہ سے لے کر وکیل تک ہر شخص اس کا تمسخر اڑاتا اور عدالتوں کے چکر لگاتے ہوئے

بے چارے کے پیروں میں آبلے پڑ جاتے اور انصاف تو دور کی بات ہے کوئی نتیجہ بھی حاصل نہ ہوتا۔مگر ایرینا جیڈی کے ساتھ ایسا نہیں ہوا کیونکہ وہ پاکستان میں نہیں امریکا میں رہ رہی تھی۔ ایک ایسے ملک کی شہری ہے جو اپنی خارجہ پالیسی میں چاہے کتنا ہی مسخ اور مکروہ چہرہ کیوں نہ رکھتا ہو مگر اپنے پاسپورٹ ہولڈر کے لیے رحمدل ہے۔اپنے شہری کی اندرون ملک اور بیرون ملک حفاظت کو اپنی انا کا مسئلہ سمجھتا ہے۔

نہ صرف جان و مال کی حفاظت بلکہ اپنے شہری کے نفسیاتی سکون کے معاملے میں بھی حساس ہے کیونکہ اذیت، تکلیف صرف جسمانی نہیں ہوا کرتی۔ دلی، روحانی اور نفسیاتی بھی ہوا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی قوانین کے مطابق صرف جسم جلنے پر نہیں ’’دل‘‘ ’’دکھنے‘‘ پر بھی اپنا غم لے کر، جس نے روحانی اذیت دی ہو، ذہنی کوفت کا شکار کیا ہو، اس کے خلاف بھی عدالت میں جایا جا سکتا ہے

اور امریکی عدالت ہر سال کسی وجہ سے بھی ذہنی اذیت کے شکار ہزاروں شہریوں کو انصاف دلاتی ہے۔ایرینا جیڈی کا کیس ۴۹ دن چلا۔ ایرینا کا وکیل یہ ثابت کرنے میں کامیاب رہا کہ ایرینا کی انگلی پر پڑنے والا ایک ننھا سا آبلہ فیکٹری کے نظام میں خرابی کے باعث پڑا ہے اور اس فیکٹری میں اس سے بھی بڑا حادثہ پیش آ سکتا ہے اور ایرینا کو اس ایک ننھے سے آبلے کے باعث، شدید ذہنی اذیت اور کوفت سے گزرنا پڑا

اور نوکری جانے کے باعث مالی نقصان بھی اٹھانا پڑا۔ حتیٰ کہ وکیل نے پریشانی کے دنوں میں جو ایرینا نے جھنجھلاہٹ میں ایک مرتبہ اپنے بچے کو مارا، اس کا ذمے دار بھی اس ننھے سے آبلے کو ٹھہرایا جو فیکٹری کے حفاظتی انتظام میں خرابی کے باعث پیش آیا تھا۔ گویا بچے کو پیٹنے کا بھی اصل ذمے دار حفاظتی انتظام کی خامی کو قرار دیا۔ایرینا جیڈی کے اس کیس میں امریکی عدالت کا فیصلہ انسانی احساس کا احساس کرنے کی معراج ہے۔

عدالت نے فیکٹری مالک کو ایرینا جیڈی کو ۳۵ ہزار ڈالر ادا کرنے کا حکم دیا اور فیکٹری مالک کو حکم دیا کہ وہ فوراً فیکٹری بند کرے۔ حفاظتی انتظامات کے حوالے سے دوبارہ سرٹیفکیٹس حاصل کرے اور اس دوران جتنا عرصہ فیکٹری بند رہے گی فیکٹری کے مالک کو فیکٹری میں کام کرنے والے ۳۵۰ ورکرز کی تنخواہیں بھی ادا کرنا ہوں گی۔ عدالتی فیصلے پر عمل نہ کرنے کی صورت میں فیکٹری مالک کو مزید بھاری جرمانہ اور

قید کی سزا بھگتنا ہوگی۔ یہ ایک ایسے معاشرے کا ذکر ہے جسے ہم کفار کا معاشرہ کہتے ہیں۔ اب آپ پاکستان آ جائیں، جو اسلام کا قلعہ کہلاتا ہے۔اسلامی فلسفے کے مطابق موذی سے موذی جانور کو بھی جلا کر مارنے سے سختی سے منع کیا گیا ہے مگر یہاں ہر دوسرے چوتھے روز درجنوں، بیسیوں اور اب سیکڑوں افراد زندہ جلا دیے جاتے ہیں۔ جی ہاں زندہ جلتے نہیں ہیں جلا دیے جاتے ہیں۔ حادثہ اس وقت تک حادثہ ہوا کرتا ہے

جب تک اس میں انسانی غفلت، کوتاہی، کرپشن اور بددیانتی شامل نہ ہو۔ جب حادثات پیش آنے کی اصل وجہ کرپشن، قوانین سے انحراف حتیٰ کہ انسانی جان کے حوالے سے لاپروائی بھی ہو تو وہ ’’حادثہ‘‘ نہیں ’’جرم‘‘ ہوا کرتا ہے۔ قدرتی اموات نہیں ’’قتل‘‘ ہوا کرتے ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…