رابعہ بصریہ ایک ہاتھ میں پانی لے کر دوسرے میں آگ لے کر ایک بار جارہی تھیں اور کہہ رہی تھیں کہ آگ سے جنت کو جلاؤں گی اور پانی سے جہنم کوبھجاؤں گی تاکہ لوگ جنت اور جہنم کیلئے عبادت نہ کریں‘ یہ رابعہ بصریہ کے غلبہ حال کا واقعہ ہے۔ حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اگر رابعہ بیچاری بھید سے واقف ہوتی تو وہ ایسا کام نہ کرتی اس لئے کہ اللہ تعالیٰ خود جنت کی طرف بلا رہے ہیں
’’واللہ یدعو الیٰ دارالسلام‘‘ اور جس کی طرف اللہ بلائیں اس کی طرف جان عین منشائے خداوندی ہوتا ہے اللہ والوں کی محبت الٰہی کے غلبہ میں ایسی باتیں کر جانا یہ محبت کی وجہ سے ہوتا ہے۔(سکون دل ص216)
شبلی! جوش میں محبت نہ دکھلا
ایک مرتبہ حضرت شیخ شبلی رحمتہ اللہ علیہ وضو کر کے گھر سے نکلے‘ راستے میں ہی تھے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا‘ شبلی ایسا گستاخانہ وضو کر کے تو میرے گھر کی طرف جا رہاہے‘ وہ سہم گئے اور پیچھے ہٹنے لگے‘ جب وہ پیچھے ہٹنے لگے تو دوبارہ الہام ہوا شبلی تو میرا گھر چھوڑ کر کہاں جائے گا؟ وہ پھر ڈر گئے اور زور سے ’’اللہ‘‘ کی ضرب لگائی جب اللہ کا فقط کہا تو الہام ہوا شبلی! تو ہمیں اپنا جوش دکھاتا ہے حضرت شبلی رحمتہ اللہ علیہ یہ سن کر دبک کر بیٹھ گئے‘ پھر تھوڑی دیر کے بعد الہام ہوا شبلی‘ تو ہمیں اپنا صبر دکھاتا ہے بالآخر کہنے لگے اے اللہ! میں تیرے ہی سامنے فریاد کرتاہوں اصل میں اللہ تعالیٰ اپنے پیارے کے ساتھ ذرا محبت کی باتیں کرنا چاہتے تھے۔
ناز کا معاملہ ہی الگ ہے
حضرت شبلی رحمتہ اللہ علیہ پر ایک مرتبہ عجیب کیفیت تھی اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں الہام فرمایا شبلی! کیا تو یہ چاہتا ہے کہ میں تیرے عیب لوگوں پر کھول کر ظاہر کر دوں تاکہ تجھے دنیا میں کوئی منہ لگانے والا نہ رہے‘ وہ بھی ذرا ناز کے موڈ میں تھے لہٰذا جب یہ الہام ہوا تو وہ اسی وقت اللہ رب العزت کے حضور کہنے لگے‘ اللہ! کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں آپ کی رحمت کھول کھول کر لوگوں پر ظاہر کر دوں تاکہ آپ کو دنیا میں سجدہ کرنے والا نہ رہے‘ جیسے ہی یہ بات کہی اوپر سے الہام ہوا۔شبلی! نہ تو میری بات کہنا اور نہ میں تیری بات کہتا ہوں۔ (خطبات ذوالفقار ص7/128)
نفسانی اور حمانی محبت کا بدلہ
حضرت یوسف علیہ السلام ایک جگہ سے جارہے تھے آواز سنی کہ ویرانہ میں کوئی آواز دے رہا ہے ’’سبحان من جعل الملوک عبیدا بالمعصیتہ و جعل العبید ملوکا باطاعتہ‘‘
پاک ہے وہ ذات جس نے بادشاہوں کو نافرمانی کی وجہ سے غلام بنا دیا اور غلاموں کو فرمانبرداری کی وجہ سے وقت کابادشاہ بنا دیا۔ اللہ تعالیٰ ایسی ہی ذات ہے جو اس کی اطاعت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو دنیا میں بھی عزتیں دیتے ہیں تو حضرت یوسف علیہ السلام نے پوچھا کہ اے بڑھیا تو کون ہے؟ کہنے لگی ’’میں ہی وہ ہوں جس نے تمہیں سونے‘ چاندی‘ ہیرے اور موتیوں کے بدلے خریدا تھا‘‘۔
زلیخا کو یوسف علیہ السلام سے محبت تھی ملکہ سے ہٹا کے بھکارن بنا دی گئی اور یوسف علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ سے محبت تھی اللہ نے غلامی سے نکال کر وقت کا بادشاہ بنا دیا۔



















































