مواہب لدنیہ میں واقعہ لکھا ہوا ہے کہ عبداللہ بن مخزومہ رحمتہ اللہ علیہ ایک بزرگ تھے انہوں نے دعا مانگی تھی کہ اے اللہ جنگ یمامہ کے لئے جا رہا ہوں اب اس جنگ میں میرے جسم کے ہر عضو کے اوپر زخم آئے‘ یہ دعا مانگی اور واقعی ایسا ہی ہوا کہ وہ گھمسان کے رن میں اس طرح گھر گئے کہ ان کے جسم کے ہر ہر عضو پر زخم آئے جب زخمی حالت میں تھے اور روح پرواز کرنے کے قریب تھی
ایک مسلمان قریب ہوا تو اس مسلمان نے کہا کہ آپ کو پانی پلاؤ آپ کے جسم کا ہر ہر عضو زخمی ہو چکا ہے تو عبداللہ بن مخزومہ رحمتہ اللہ علیہ فرمانے لگے کہ نہیں میں اس وقت روزے کی حالت میں ہوں میں شربت دیدار سے اپنے روزے کا افطار کرنا چاہتا ہوں ایسی بھی محبت ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ اس محبت کا تھوڑا سا نشہ ہمیں بھی عطا فرما دے۔
عشق و محبت کی دکان کدھر کو ہے؟
حضرت مولانا محمد علی مونگیری رحمتہ اللہ علیہ حضرت شاہ فضل الرحمن گنج مراد آبادی رحمتہ اللہ علی کی صحبت میں جانا شروع کر دیا‘ یہ ذرا عقل مند تھے ایک مرتبہ حضرت شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے بڑے رازدارانہ لہجہ میں پوچھا کہ محمد علی کیا تم نے کبھی عشق کی دکان دیکھی ہے؟ انہوں نے تھوڑی دیر سوچا اور پھر کہنے لگے ‘ جی حضرت! میں نے عشق کی دو دکانیں دیکھی ہیں‘ ایک شاہ آفاق کی اور دوسری شاہ بداللہ کی‘ غلام علی دہلوی جو سلسلہ نقشبندیہ کے شیخ ہیں اور حضرت مجدد الف ثانی کی اولاد میں سے ہیں‘ دکانوں سے مراد خانقاہیں ہیں کیونکہ عشق الٰہی کا سودا اللہ والوں کی خانقاہوں سے ملتا ہے۔
محبت کی حقیقت ان سے پوچھو
امام مالک رحمتہ اللہ علیہ کے سامنے محبت کا لفظ آیا تو فرمایا کہ اگر اس کالفظی معنی پوچھنا ہو تو ہم بھی بتا دیں گے‘ شش اقسام میں سے کون سا لفظ ہے ہفت اقسام میں سے کون سا ہے‘ باب اس کا کون سا ہے یہ تو ہم بھی بتا دیں گے لیکن اس کی حقیقت پوچھنی ہو تو تمہیں فلاں شیخ ک پاس جانا ہو گا وہ تمہیں اس کی حقیقت سمجھائیں گے ‘ اسی طرح امت کے علماء وقت کے مشائخ کے ساتھ ایک رابطہ رکھتے۔



















































