حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ میرے دوستو! اللہ کی قسم کھا کر عرض کرتا ہوں اس عاجز نے مجمع میں کبھی اس طرح کی قسمیں نہیں کھائیں مگر آج میرے جی نے چاہا کہ یہ بات عرض کر دی جائے کہ اس عاجز نے بھی اپنی زندگی میں عشق کی ایک دکان دیکھی ہے اس کے گواہ حضرت حکیم عبداللطیف صاحب مدظلہ العالی ہیں وہ عشق کی دکان چکوال میں دیکھی تھی‘
وہاں پینے والے آتے تھے کوئی مشرق سے آتا تھا‘ کوئی مغرب سے آتا تھا‘ کوئی پشاور سے آتا تھا‘ کوئی کراچی سے آتا تھا‘ کہیں سے منیر صاحب چلے آ رہے ہوتے تھے‘ کہیں سے حکیم عبداللطیف صاحب آرہے ہوتے تھے‘ کہیں سے مولانا نعیم اللہ صاحب آ رہے ہوتے تھے کہیں سے کوئی عشق کی پڑیا لینے آتا تھا اور کہیں سے کوئی عشق کا پیالہ پینے کے لئے آتا تھا یہ عشق کے سودائی‘ یہ محبت الٰہی کے منگتے یہ محبت الٰہی لینے والے فقیر بے تاب ہو کر اپنے گھروں سے کھنچے چلے آتے تھے۔
یہ وہاں جاتے تھے وہاں ایک مربی اور شیخ تھے جن کی زندگی اللہ رب العزت کے حکموں کے مطابق ڈھل چکی تھی جن کا سینہ عشق الٰہی سے بھر چکا تھا وہ عشق کی دوا پیتے تھے کبھی کسی کو تنہائی میں بٹھا کر دیتے‘ کبھی کسی سے بیان کروا دیتے‘ کبھی کسی کو سامنے بٹھا کر دیتے‘ کبھی کسی کو ڈانٹ پلا کردیتے‘ جو عشق کی دوا پی لیتے تھے وہ اپنے سینوں میں عشق کی گرمی لے کر جاتے تھے‘ میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ جب ان حضرات کے دلوں میں انہوں نے عشق کی ایسی گرمی بھر دی تو پتہ نہیں کہ اللہ نے ان کے اپنے دل میں عشق کی کیا حرارت رکھی ہو گی۔



















































