ایک دفعہ ایک آدمی نماز پڑھ رہا تھا‘ مجنوں لیلیٰ کی محبت میں غرق تھا‘ وہ اسی مدہوشی میں اس نمازی کے سامنے سے گزر گیا‘ اس نمازی نے نماز مکمل کرنے کے بعدمجنوں کو پکڑ لیا‘ کہنے لگا تو نے میری نمازخراب کر دی کہ میرے سامنے سے گزر گیا‘ تجھے نظر نہیں آیا‘ اس نے کہاخدا کے بندے میں مخلوق کی محبت میں گرفتار ہوں مگر وہ محبت اتنی غالب آئی کہ مجھے یہ پتہ نہ چلا کہ میں کسی کے سامنے سے گزر رہا ہوں
اور تو خالق کی محبت میں گرفتار ہے کہ نماز پڑھ رہا ہے تجھے اپنے سامنے سے جانے والوں کا پتہ چل رہا تھا۔
حضرت جنیدبغدادی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ مجھے ایک عورت نے توحید سکھا دی‘ کسی نے پوچھا کہ حضرت وہ کیسے؟ فرمانے لگے کہ میرے پاس ایک عورت آئی جو پردے میں تھی۔ کہنے لگی کہ میرا خاوند دوسری شادی کرنا چاہتا ہے۔ آپ یہ فتویٰ لکھ کر دیں کہ اس دوسری شادی کرنے کی اجازت نہیں ہے انہوں نے سمجھایا کہ اللہ کی بندی اگر وہ اپنی ضرورت کے تحت دوسری شادی کرنا چاہتا ہے تو شریعت نے چار تک کی اجازت دی ہے۔ میں کیسے لکھ کے دے سکتا ہوں؟ فرماتے ہیں کہ جب میں نے یہ کہا تو اس عورت نے ٹھنڈی سانس لی اور کہنے لگی کہ حضرت! شریعت کا حکم راستہ میں رکاوٹ ہے ورنہ اگر اجازت ہوتی اور میں آپ کے سامنے چہرہ کھول دیتی اور آپ میرے حسن و جمال کو دیکھتے تو آپ اس بات کو لکھنے پر مجبور ہو جاتے کہ جس کی بیوی اتنی خوبصورت ہو اس کو دوسری شادی کرنے کی اجازت نہیں‘ فرماتے ہیں کہ وہ تو یہ بات کہہ کر چلی گئی مگر میرے دل میںیہ بات آئی کہ اے اللہ! آپ نے عورت کو عارضی حسن و جمال عطا کیا اس کو اپنے حسن پر اتنا ناز ہے کہ وہ کہتی ہے کہ جس کی بیوی میں ہوں اب اس کو محبت کی نظر دوسرے کی طرف ڈالنے کی اجازت نہیں تو اے پروردگار! تیرے اپنے حسن و جمال کا کیا عالم ہے۔ آپ کہاں پسند کریں گے کہ آپ کے ہوتے ہوئے کوئی بندہ محبت کی نظر کسی غیر کی طرف اٹھا سکے۔



















































