ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

حضرت عبداللہ ذوالبجادین رضی اللہ عنہ اور محبت الٰہی

datetime 7  فروری‬‮  2017 |

محبت الٰہی کا جذبہ انسان کے دل میں ہو تو اللہ تعالیٰ بڑی قدر دانی فرماتے ہیں‘ محبت میں ایسی کیفیت ہو جیسی حضرت عبداللہ ذوالبجادینؓ کو نصیب تھی۔ یہ ایک نوجوان صحابیؓ تھے جو مدینہ طیبہ سے کچھ فاصلہ پر ایک بستی میں رہتے تھے‘ دونوں سے معلوم ہوا کہ مدینہ طیبہ میں ایک پیغمبر علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لائے ہیں‘ چنانچہ حاضر ہوئے اور چوری چھپے کلمہ پڑھ لیا‘ واپس گھر آ گئے‘

گھر کے سب لوگ کافر تھے لیکن محبت تو وہ چیز ہے جو چھپ نہیں سکتی‘ اپنی طرف سے چھپایا کہ کسی کو پتہ نہ چلے مگر نبی علیہ الصلوۃ و السلام کا کوئی تذکرہ ہوتا یہ متوجہ ہوتے۔
چنانچہ گھر والوں نے اندازہ لگا لیا کہ کوئی نہ کوئی معاملہ ضرور ہے ایک دن چچا نے کھڑا کر کے پوچھا بتاؤ بھئی! کلمہ پڑھ لیا ہے؟ فرمانے لگے جی ہاں! چچا کہنے لگا‘ اب تیرے سامنے دو راستے ہیں یا تو کلمہ پڑھ کر اس گھر سے نکل جا اور اگر گھر میں رہنا ہے تو پھر ہمارے دین کو قبول کر لے‘ چنانچہ ایک ہی لمحہ میں فیصلہ کر لیا‘ فرمایا میں تو چھوڑ سکتا ہوں لیکن اللہ کے دین کو نہیں چھوڑ سکتا۔ چچا نے مارا پیٹا بھی سہی اور جاتے ہوئے جسم کے کپڑے بھی اتار لئے جسم پر بالکل کوئی کپڑا نہ تھا ماں بالآخر ماں تھی شوہر کی وجہ سے کچھ ظاہر میں تو نہ کہہ سکی لیکن چھپ کر اپنی چادر پکڑا دی کہ بیٹا! ستر چھپا لینا‘ وہ چادر لے کر جب باہر نکلے تو اس کے دو ٹکڑے کئے‘ ایک سے ستر چھپا لیا ور دوسری اوپر اوڑھ لی‘ اسی لئے ذوالبجادین یعنی دو چادروں والے مشہور ہو گئے۔ اب کہاں گئے؟ جہاں سودا کر چکے تھے‘ قدم بے اختیار مدینہ طیبہ کی طرف بڑھ رہے ہیں‘ رات کا سفر کر کے صبح نبی کریمﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے‘ نبی کریمﷺ نے دیکھا تو چہرہ پر عجیب خوشی کی کیفیت ظاہر ہوئی‘ صحابہ کرامؓ متوجہ ہوئے کہ یہ کون آیا ہے جس کو دیکھ کر اللہ کے محبوبﷺ کا چہرہ یوں تمتا اٹھا ہے۔

حاضر خدمت ہوئے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے نبیﷺ سب کچھ چھوڑ چکا ہوں‘ اب آپﷺ کے قدموں میں حاضر ہوں چنانچہ اصحاب صفہ میں شامل ہو گئے اور وہیں رہنا شروع کر دیا۔
چونکہ قربانی بہت بڑی دی تھی محبت الٰہی میں اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیا تھا اس لئے اس کا بدلہ بھی ایسا ہی ملنا چاہئے تھا‘ چنانچہ ان کو ایسی کیفیات حاصل تھیں کہ محبت الٰہی میں بعض اوقات جذب میں آ جاتے۔ حدیث مبارکہ میں آیا ہے کہ یہ (حضرت عبداللہ ذوالبجادینؓ) مسجد نبویؐ کے دروازے پر بعض اوقات بیٹھے ہوتے تھے اور ایسا جذب طاری ہوتا تھا کہ اونچی آواز سے اللہ اللہ اللہ کہہ اٹھتے‘ حضرت عمرؓ نے دیکھا تو انہوں نے ڈانٹا کہ کیا کرتا ہے یہ سن کر نبی اکرمﷺ نے فرمایا عمر! عبداللہ کو کچھ نہ کہو‘ یہ جو کچھ کر رہاہے اخلاص سے کر رہا ہے۔
کچھ عرصہ گزرا نبی کریمﷺ ایک غزوہ میں تشریف لے گئے۔ حضرت عبداللہ ذوالبجادینؓ بھی ساتھ تھے‘ راستہ میں ایک جگہ پہنچے تو بخار ہو گیا نبی کریمﷺ کو پتہ چلا تو آپؐ ابوبکرؓ کو لے کر تشریف لائے‘ جب وہاں پہنچے تو حضرت عبداللہ ذوالبجادینؓ کے چند لمحات باقی تھے‘ نبی اکرمﷺ نے ان کا سر اپنی گود مبارک میں رکھ لیا یہ وہ خوش نصیب صحابیؓ ہیں جن کی نگاہیں چہرہ رسولﷺ پر لگی ہوئی تھیں اور وہ اپنی زندگی کی آخری سانس لے رہے تھے۔

نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا ان کے کفن دفن کی تیاری کرو‘ آپؐ نے اپنی چادر بھجوائی اور فرمایا کہ عبداللہؓ کو اس چادر میں کفن دیا جائے گا۔ خود نبی اکرمﷺ نے ان کا جنازہ پڑھایا پھر جنازہ لے کر قبرستان کی طرف چلے۔ شریعت کا مسئلہ یہ ہے کہ آدمی میت کا سب سے زیادہ قریبی ہو تو وہ قبر میں اس کو اتارنے کیلئے اترے‘ اس وقت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ بھی کھڑے تھے نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے خود قبر میں اتر کر فرمایا‘ اپنے بھائی کو پکڑا دو مگر ان کے ادب کا خیال رکھنا آپؐ نے اس عاشق صادق کو اپنے ہاتھوں میں لیا اور زمین پر لٹا دیا۔ گویا امانت کو زمین کے سپرد کر دیا۔
حدیث مبارک کا مفہوم ہے کہ اللہ کے محبوبﷺ نے جب ان کو زمین پر رکھا تو آپؐ نے ارشاد فرمایا ’’اے اللہ! میں عبداللہؓ سے راضی ہوں تو بھی اس سے راضی ہو جا‘‘ یہ الفاظ تھے کہ حضرت عمرؓ بھی سن کر وجد میںآ گئے اور کہنے لگے کہ میرا جی چاہتا ہے کہ کاش! آج نبی کریمﷺ کے مبارک ہاتھوں میں میری میت ہوتی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…