ایک آدمی آ کر کہنے لگا‘ آپ اس شخص کے بارے میں کیا کہتے ہیں جو بن دیکھے گواہی دیتا ہو‘ یہود و نصاریٰ کے قول کی تصدیق کرتا ہو‘ اللہ کی رحمت سے دور بھاگتا ہو‘ مردار کھا لیتا ہو‘ جس کی طرف اللہ نے بلایا ہو اس کی پرواہ نہ کرتا ہو۔ جس سے اللہ نے ڈرایا ہو اس کا خوف نہ کرتا ہو۔ فتنے کو محبوب رکھتا ہو‘ امام ابوحنیفہ نے فرمایا وہ شخص مومن ہے‘ سوال پوچھنے والا بڑا حیران ہوا کہنے لگا جی وہ کیسے؟
فرمایا دیکھو تم نے پہلی بات کہی کہ بن دیکھے گواہی دیتا ہو‘ تو مومن اپنے پروردگار کی بن دیکھے گواہی دیتا ہے۔ دوسری بات تم نے یہ کہی کہ یہود و نصاریٰ کے قول کی تصدیق کرتا ہو‘تو قرآن پاک میں آیا ہے کہ ’’تو مومن ان دونوں کے اس قول کی تصدیق کرتا ہے کہنے لگا یہ بھی ٹھیک ہے فرمایا‘ تیسری بات یہ تھی کہ اللہ کی رحمت سے دور بھاگتا ہے تو دیکھو بارش اللہ کی رحمت ہے اور بارش سے تو ہر بندہ بھاگتا ہے کہ کہیں کپڑے نہ بھیگ جائیں وہ کہنے لگا یہ بھی ٹھیک ہے‘ چوتھی بات یہ ہے کہ مردار کھاتا ہے تو مچھلی مردہ ہوتی ہے اس کو تو ہر بندہ مزے لے لے کر کھاتا ہے اس نے کہا کہ ٹھیک ہے۔ پانچویں بات یہ ہے کہ جس کی طرف اللہ نے بلایا ہے اس کی طرف رغبت نہیں کرتا پس وہ جنت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف بلایا ہے مگر اس کو مشاہدہ حق اتنا مطلوب ہے۔ اللہ کی رضا اتنی مطلوب ہے کہ محبوب حقیقی کی طرف سے نظر ہٹا کر وہ جنت کی طرف نظر ڈالنا کبھی پسند نہیں کرتا۔ چھٹی بات یہ ہے کہ جس سے اللہ نے ڈرایا ہے اس سے وہ ڈرتا نہیں تو وہ دوزخ ہے اس کو اپنے محبوب کی ناراضگی کی اتنی فکر ہوتی ہے کہ اب اسے جہنم میں جلنے کی پرواہ نہیں ہوتی‘ ساتویں بات یہ ہے کہ اسے فتنہ محبوب ہے‘ پس اولاد کو قرآن میں فرمایا گیا ’’انما اموالکم و اولادکم فتنہ‘‘ اور اولاد سے ہر شخص کو طبعی محبت ہوتی ہے پس وہ شخص مومن ہے۔ سوال پوچھنے والا شخص حیران رہ گیا۔



















































