حضرت عبداللہ بن مبارک رحمتہ اللہ علیہ کے پاس حدیث کا علم سیکھنے کیلئے اتنا بڑا مجمع ہوتا تھا کہ ایک دفعہ دواتوں کی تعداد کو گنا گیا تو چالیس ہزار نکلیں اس دور میں لاؤڈ سپیکر تو ہوتے نہیں تھے وہ حدیث سناتے تو بعض لوگ نماز کے مکبر کی مانند ان کے الفاظ کو اونچی جگہ سے اونچے الفاظ کے ساتھ دہرا دیتے تاکہ پورے مجمع تک آواز پہنچ جائے ان مکبر حضرات کی تعداد بارہ سو ہوا کرتی تھی۔ پورا مجمع کتنا بڑاہو گا‘ اتنے بڑے بڑے مجمع کے اندر بیٹھ کر حدیث کا علم پڑھایا۔
اس کو کہتے ہیں شوق علم
امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کامطالعہ میں استغراق
امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کا مشہور واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ وہ کوئی حدیث پاک تلاش کر رہے تھے اس وقت انہیں بھوک بھی لگی ہوئی تھی۔ ساتھ ہی کھجوروں کی ایک تھیلی پڑی ہوئی تھی چنانچہ انہوں نے ایک کھجور منہ میں ڈالی اور کتاب کا مطالعہ کرنے میں مصروف ہو گئے۔
اس وقت مطالعہ کے اندر استغراق کی کیفیت تھی کہ پتہ ہی نہ رہا کہ میں کتنی کھجوریں کھا چکا ہوں‘ چنانچہ جب کھاتے کھاتے زیادہ کھا لیں تو اس کی وجہ سے بیمار ہو گئے اور بالآخر اللہ تعالیٰ کے حضور پہنچ گئے ان کو علم میں اتنا استغراق نصیب ہوا تھا کہ انہیں گردو پیش کی خبر ہی نہ ہوتی تھی۔
امام محمد رحمتہ اللہ علیہ ایک جگہ درس دے رہے تھے‘ وہاں سے چند میل کے فاصلے پر ایک بستی تھی وہاں سے بھی لوگ ان کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیاکہ حضرت! آپ ہمارے ہاں بھی درس دیا کریں۔ انہوں نے فرمایا کہ میرے پاس وقت بہت کم ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت ہم ایک سواری کا بندوبست کر دیتے ہیں آپ درس دیتے ہی اس پر سوار ہوں اور ہمار بستی میں آئیں اور وہاں درس دے کر جلدی واپس آ جائیں۔ اس طرح پیدل آنے جانے میں جو وقت لگے گا وہی درس میں لگ جائے گا۔ آپ نے قبول فرما لیا جب آپ نے وہ درس دینا شروع کیا تو یہ وہ دن تھے جب امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ ان کی خدمت میں پہنچے ہوئے تھے انہوں نے بھی اپنی درخواست پیش کرتے ہوئے کہا‘ حضرت! مجھے بھی آپ سے یہ کتاب پڑھنی ہے‘ حضرت نے فرمایا‘ بھئی! اب کیسے وقت فارغ کریں گے‘ اب مجھے یہاں بھی درس دینا ہیوتا ہے اور وہاں بھی درس دینا ہوتا ہے۔ انہوں نے عرض کیا حضرت! جب آپ یہاں درس دینے کے بعد سواری پر بیٹھ کر اگلی بستی کی طرف جائیں گے تو آپ سواری پر بیٹھے بیٹھے درس دے دیں میں سواری کے ساتھ دوڑتا بھی رہوں گا اور آپ سے علم بھی سیکھتا رہوں گا‘ تاریخ انسانیت طلب علم کی اس سے اعلیٰ مثال پیش نہیں کر سکتی ۔



















































