ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

حضرت شاہ عبدالقادر رحمتہ اللہ علیہ کی نگاہ میں تاثیر

datetime 7  فروری‬‮  2017 |

اللہ والوں کی نگاہ جس پر پڑ جاتی ہے اس چیز پر بھی اثر ہو جایا کرتا ہے‘ حضرت شیخ الحدیث رحمتہ اللہ علیہ نے ایک عجیب واقعہ لکھا ہے فرماتے ہیں کہ شاہ عبدالقادر رحمتہ اللہ علیہ نے ایک مرتبہ مسجد فتح پور دہلی میں چالیس دن کااعتکاف کیا‘ جب باہر دروازہ پر آئے تو ایک کتے پر نظر پڑ گئی‘ ذرا غور سے اس کو دیکھا تو اس کتے میں ایسی جاذبیت آئی کہ دوسرے کتے اس کے پیچھے پیچھے چلتے‘

وہ جہاں جا کر بیٹھا دوسرے کتے اس کے ساتھ جا کر بیٹھے۔ حضرت اقدس تھانوی رحمتہ اللہ علی نے جب یہ واقعہ سنا تو ہنس کر فرمایا کہ وہ ظالم کتا بھی کتوں کاپیر بن گیا۔ دیکھا ایک ولی کامل کی نظر ایک جانور پر پڑی تو اس کے اندر یہ کیفیت پیدا ہو گئی اگر انسان پر پڑے گی تو اس انسان کے اندر وہ کیفیت پیدا کیوں نہیں ہو گی۔
عبدالقدوس گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ کی گفتگو میں تاثیر
حضرت شاہ عبدالقادر گنگوہیؒ کے صاحبزادے تحصیل علم سے فارغ ہو کر گھرآئے تو ایک محفل میں حضرت نے فرمایا کہ بیٹا یہ سالکین کی جماعت تمہارے ساتھ بیٹھی ہے۔ انہیں کچھ نصیحت کرو۔ صاحبزادے نے علوم و معارف سے بھرپور وعظ کیا مگر لوگ ٹس سے مس نہ ہوئے۔ بالآخر حضرت نے فرمایا فقیرو! کل ہم نے دودھ رکھا تھا کہ سحری کریں گے مگر بلی آئی اور اسے پی گئی‘ بس یہ بات سنتے ہی سب لوگ دھاڑیں مار مار کر رونے لگ گئے۔ محفل کے اختتام پر گھر پہنچے تو حضرت نے صاحبزادے سے فرمایا کہ بیٹا تم نے اتنا اچھا بیان کیا مگر کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی میں نے عام بات کہی تو لوگوں پر گریہ طاری ہو گیا۔

صاحبزادے نے کہا کہ ابا جان یہ تو آپ ہی سمجھا سکتے ہیں حضرت نے فرمایا کہ جب دل سوز عشق سے برا ہو تو زبان سے نکلی ہوئی ہر بات میں تاثیر ہوتی ہے۔
خانقاہ کی مٹی ملنے پر محمود کی مغفرت
سلطان محمود غزنوی رحمتہ اللہ کو وفات کے بعد کسی نے خواب میں دیکھا وہ جنت کی سیر کر رہا تھا‘ اس نے کہا بھئی! آپ تو دنیا کے بادشاہ تھے‘ اور آخرت میں بادشاہوں کا بڑا برا حال ہوتا ہے۔ ان کا تو لمبا چوڑا حساب و کتاب ہوتا ہے اور آپ کو میں جنت میں دیکھ رہا ہوں اس نے جواب دیا کہ ہاں میرا ایک چھوٹا سا عمل تھا‘ لیکن پروردگار عالم کو وہی ایک عمل پسند آ گیا‘ جس کی وجہ سے میری مغفرت کر دی گئی‘ اس نے پوچھا وہ کون سا عمل ہے؟ کہنے لگا کہ میں ایک دفعہ ابوالحسن خرقانی رحمتہ اللہ علیہ کی خانقاہ پر گیا تھا وہاں لوگ جھاڑو دے رہے تھے‘ جس کی وجہ سے مٹی اڑ رہی تھی میں نے اس مٹی میں سے گزرتے ہوئے اس مٹی کو اس نیت سے چہرے پر مل یا تھا کہ اللہ والوں کے کپڑے اور بستروں کی مٹی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے مجھے فرمایا کہ تو نے میرے راستے میں نکلنے والے درویشوں کی مٹی کی قدر کی اسی لئے اس کی برکت سے تیرے چہرے کو جہنم کی آگ سے بری فرما دیتے ہیں۔ سبحان اللہ

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…