حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ افقیہ وقت تھے ایک آدمی حج سے واپس آیا اور وہاں سے کچھ کپڑا لایا اس نے وہ کپڑا حضرت کی خدمت میں پیش کیا۔ حضرت نے جب اسے لیا تو اسے چوما اور اپنے اوپر رکھ لیا جیسے بڑی عزت والی کوئی چیز ہو۔ طلباء بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے عرض کیا حضرت یہ تو فلاں ملک کا کپڑا ہے مدینہ کے لوگ خرید کر آگے فروخت کرتے ہیں۔
فرمایا میں تسلیم کرتا ہوں کہ یہ مدینہ کا بنا ہوا نہیں ہے مگر میں تو اس لئے اس کی عزت کرتا ہوں کہ اسے مدینے کی ہوا لگی ہے۔
ایک آدمی حج سے واپس آیا اور اس نے تین کھجوریں حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی کی خدمت میں بھیجیں‘آپؒ کو جب ملیں تو آپؒ نے اپنی ہتھیلی پر وہ کھجوریں ایسے رکھیں جیسے دنیا کی دولت آپ کی ہتھیلی میں سمٹ آئی ہو۔ آپؒ نے ایک شاگرد کو بلایا اور فرمایا کہ ہمارے جو قریبی ملنے جلنے والے ہیں ذرا ان کے ناموں کی فہرست تیار کر دینا اس نے فہرست بنائی تو پچاس سے زیادہ نام ہوئے فرمایا ان تینوں کھجوروں کے ناموں کی تعداد کے برابر حصے کر دو‘ چنانچہ اتنے حصے کئے گئے چھوٹے چھوٹے حصے بنے‘ فرمایا‘ ایک ایک حصہ میرے دوست کو دے دو‘ ایسے معلوم ہوتا تھا جیسے کچھ ہیرے اور موتی آپ کے ہاتھ لگ گئے ہیں‘ جو اپنے دوستوں کو پیش کر رہے ہیں۔ ایک شاگرد نے کہا حضرت! اتنے چھوٹے حصے سے کیا بنے گا؟ اس کی یہ بات سن کر حضرت کا رنگ سرخ ہو گیا اور فرمایا کہ مدینہ کی کھجور ہو اور تو اس حصے کو چھوٹا کہے چنانچہ کتنے ہی دنوں تک اس سے بولنا چھوڑ دیا۔



















































