تین روز کے بعد غار ثور سے نکل کر مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوئے تو نبیﷺ نے دیکھا کہ ابوبکرؓ کبھی پیچھے چلتے ہیں‘ کبھی دائیں‘ کبھی بائیں‘ نبیﷺ نے فرمایا! ابوبکر یہ کیا معاملہ ہے‘ عرض کیا‘ اے اللہ کے محبوب! جب پیچھے چلتا ہوں تو ڈر لگتا ہے کہ دشمن کہیں دائیں سے نہ آ جائے تو ادھر چلنے لگ جاتا ہوں پھر ڈر لگتا ہے کہ کہیں بائیں سے حملہ آور نہ ہو تو ادھر چلنے لگ جاتا ہوں جس
طرح شمع کے گرد پروانہ چکر لگا رہا ہوتا ہے ایک عاشق صادق اپنے محبوبﷺ کے گرد یوں چکر لگا رہا تھا۔ جب نبی علیہ السلام ام معبد کے گھر کے قریب پہنچے تو بھوک کی وجہ سے آگے سفر جاری رکھنا دشوار ہو رہا تھا‘ حضرت ابوبکرصدیقؓ نے ام معبد کی اجازت سے بکریوں کا دودھ نکالا اور نبی علیہ السلام کی خدمت میں پیش کیا۔ جب نبی علیہ السلام نے خوب جی بھر کر پی لیا تو ابوبکرؓ کو خوشی ہوئی۔ چنانچہ بعد میں کسی موقع پر یہ واقعہ سناتے ہوئے حضرت ابوبکرصدیقؓ نے کہا ترجمہ ’’نبی علیہ السلام نے اتنا دودھ پیا کہ میں خوش ہو گیا‘‘۔
عشق نبویﷺ کی یہ کتنی پیاری مثال ہے کہ دودھ تو محبوبﷺ نوش فرما رہے ہیں اور محب حقیقی کا دل خوشی سے پھولا نہیں سماتا حالانکہ بھوک صدیقؓ کو نڈھال کر رہی تھی‘ جب مدینہ طیبہ پہنچے تو اہل مدینہ نے دونوں مہمانوں کا استقبال کیا مگر چونکہ انصارؓ پہلے نبی علیہ السلام کی زیارت سے مشرف نہیں ہوئے تھے لہٰذا وہ غلطی سے حضرت ابوبکرصدیقؓ کے گرد جمع ہونے لگے۔ اتباع اتنی کامل تھی کہ تابع اور متبوع میں فرق کرنا مشکل ہو گیا تھا۔ رفتار‘ گفتار‘ چال‘ ڈھال‘ لباس وغیرہ میں اتنی مشابہت تھی کہ نقل اور اصل میں کوئی امتیاز کرنا مشکل تھا۔



















































