سیدنا حضرت عمر فاروقؓ بہت شفاف اور نکھری ہوئی شخصیت کے مالک تھے۔ جب حالت کفر میں تھے تو نبی علیہ السلام کو شہید کرنے کی نیت سے گھر سے نکلے جب ایمان قبول کر لیا تو بیت اللہ شریف کے قریب ہو کر اعلان کیا اے قریش مکہ اب مسلمان برسرعام نمازیں پڑھیں گے جو اپنی بیوی کو بیوہ اور بچوں کو یتیم کروانا چاہے‘ وہ عمرؓ کے مقابلے میں آئے‘ آپؓ کے ایمان سے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تقویت بخشی
ایک مرتبہ دل میں اشکال پیدا ہوا کہ نبی علیہ السلام مجھے اپنی جان کے علاوہ ہر چیز سے زیادہ عزیز ہیں نبی اکرمﷺ نے حقیقت کو واضح فرمایا تو کہنے لگے کہ اے اللہ کے نبیﷺ اب آپ مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں پھر ساری زندگی اسی پر جمے رہے۔ اس پر جمے رہنے کی چند مثالیں حسب ذیل درج ہیں:
فتح مکہ میں حضرت عباسؓ اپنے خچر پر سوار ہو کر حضرت ابوسفیان بن حرب کو بٹھا کر لائے اور نبی اکرمﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی میں نے ابوسفیان کو پناہ دی۔ حضرت عمرؓ نے عرض کیا اے اللہ کے نبیﷺ اس دشمن خدا نے آپ کو بہت ایذا پہنچائی مجھے اجازت دیں کہ میں اس کا سر اڑا دوں۔ حضرت عباسؓ نے حضرت عمرؓ کی طرف متوجہ ہو کر کہا اے عمر اگر ابوسفیان قبیلہ بنوعدی میں سے ہوتے تو آپ ایسا نہ کہتے جواب میں حضرت عمرؓ نے کہا اے عباسؓ جس دن آپ اسلام لائے تو آپ کا ایمان لانا مجھے اپنے والد خطاب کے ایمان لانے سے زیادہ محبوب تھا اس لئے کہ آپ کے ایمان لانے سے نبی علیہ السلام کو خوشی ہوئی تھی اس سے معلوم ہوا کہ حضرت عمرؓ اپنے آقا کی خوشی کو ہر چیز پر ترجیح دیتے تھے۔ (بیہقی‘ بزاز‘ اصابہ)
نبی علیہ السلام کے سامنے ایک مرتبہ ایک یہودی اور منافق کا مقدمہ پیش ہوا۔ یہودی چونکہ حق پر تھا لہٰذا نبی علیہ السلام نے اس کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ منافق نے سوچا کہ حضرت عمرؓ یہودیوں پر سخت گیر ہیں ذرا ان سے بھی فیصلہ کروا لیں۔ جب حضرت عمرؓ کو معلوم ہوا کہ نبی علیہ السلام پہلے فیصلہ دے چکے ہیں اور یہ منافق اپنے حق میں فیصلہ کروانے کی نیت سے میرے پاس آیا ہے آپؓاپنے گھر سے ایک تلوار لائے اور منافق کی گردن اڑا دی پھر کہا جو نبی علیہ السلام کے فیصلے کو نہیں مانتا۔ عمرؓ اس کا فیصلہ اسی طرح کرتا ہے۔ (تاریخ الخلفاء ص88/)
حضرت عمرؓ کو جب وصال نبویﷺ کا یقین ہو گیا تو انہوں نے یہ کلمات کہے ’’یا رسول اللہﷺ آپ پر میرے ماں باب قربان ہوں‘ آپؐ کھجور کے ایک تنے کے ساتھ ہمیں خطبہ دیا کرتے تھے جب لوگوں کی کثرت ہوئی تو آپؐ نے ایک منبر بنوایا تاکہ سب کو آواز پہنچا سکیں۔ آپؐ منبر پر رونق افروز ہوئے تو وہ درخت آپؐ کی جدائی پر رونے لگا۔ آپؐ نے اپنا ہاتھ اس پر رکھا تو وہ چپ ہوا جب ایک تنے کا آپؐ کی جدائی میں یہ حال ہوا تو آپؐ کی امت کو آپؐ کے فراق پر زیادہ نالہ و فریاد کرنے کا حق پہنچتا ہے۔ (عظمت اسلام ص7/)
حضرت عمرؓ نے اپنے دور خلافت میں حضرت اسامہ بن زید کا وظیفہ ساڑھے تین ہزار اور اپنے بیٹے عبداللہ بن عمرؓ کا تین ہزار مقرر کیا۔ ابن عمرؓ نے پوچھا کہ آپ نے اسامہ کو ترجیح کیوں دی وہ کسی جنگ میں مجھ سے آگے نہیں رہے۔ حضرت عمرؓ نے جواب دیا کہ اسامہ تمہاری نسبت نبی علیہ السلام کو زیادہ محبوب تھا اور اسامہ کا باپ تمہارے باپ کی نسبت نبی علیہ السلام کو زیادہ پیارا تھا۔ پس میں نے نبی علیہ السلام کے محبوب کو اپنے محبوب پر ترجیح دی۔ (ترمذی‘ کتاب المناقب بن حارثہ)
ایک مرتبہ حضرت عمرؓ نے شفاء بند عبداللہ العدویہ کو بلا بھیجا وہ آئیں تو دیکھا کہ عاتکہ بنت اسید پہلے سے موجود تھیں کچھ دیر بعد حضرت عمرؓ نے دونوں کو ایک ایک چادر دی لیکن شفاء کی چادر کی قیمت کم تھی۔ انہوں نے کہا کہ میں آپ کی چچازاد بہن ہوں قدیم الاسلام ہوں آپ نے مجھے خاص اسی مقصد کیلئے بلایا ہے۔ عاتکہ تو یونہی آ گئی تھیں آپؓ نے فرمایا واقعی یہ چادر میں نے تمہیں دینے کیلئے رکھی تھی لیکن جب عاتکہ آ گئیں تو مجھے نبی علیہ السلام کی قرابت داری کا لحاظ کرنا پڑا (اصابہ‘ تذکرہ بنت اسید)



















































