غزوہ احد کے میدان میں ایک صحابیؓ زخمی ہوئے‘ خون بہت نکل جانے کی وجہ سے قریب المرگ ہو چکے تھے‘ ایک دم دوسرے صحابیؓ ان کے قریب آئے اور پوچھا آپ کو کسی چیز کی تمنا ہے؟ عرض کیا کہ ہاں‘ انہوں نے پوچھا کہ کون سی؟ جواب ملا کہ آخری وقت میں حضور اکرمﷺ کا دیدار کرنا چاہتا ہوں۔
انہوں نے زخمی مجاہد کو اپنے کندھے پر اٹھایا اور ان کو لے کر تیزی سے اس طرف بھاگے جہاں رسول اکرمؐ تشریف فرما تھے۔ آپؐ کے سامنے جا کر اتارا اور کہا کہ آپؓ کے محبوب آپؐ کے سامنے ہیں‘ جب نام سنا تو مجاہد کے جسم میں بجلی کی سی لہر دوڑ گئی کہ فوراً طاقت بحال ہو گئی۔ اپنے چہرہ کو حضوراکرمﷺ کے سامنے کیا‘ دیدار کرتے ہی ان کی حالت غیر ہو گئی اور انہوں نے اپنی جان‘ جان آفرین کے سپرد کر دی۔
حضرت حذیفہؓ کا جذب و عشق
جنگ خندق کے دوران حضورﷺ نے ضرورت محسوس کی کہ کسی طرح دشمنوں کا پروگرام معلوم کیا جائے۔ حضرت حذیفہؓ قریب ہی موجود تھے مگر ان کے پاس نہ کوئی ہتھیار تھا اور نہ ہی سردی سے بچنے کے لئے کوئی بڑی چادر تھی‘ حضورﷺ نے فرمایا‘ جائیں اور دشمنوں کے خیمہ سے ان کی خبر لائیں۔ حضرت حذیفہؓ نے آقا کے حکم پر سردی کی کوئی پرواہ نہ کی اور تیار ہو گئے‘ حضورﷺ نے دعا دے کر روانہ فرمایا‘ حضرت حذیفہؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ کی دعا سے میرا خوف اور سردی بالکل دور ہو گئی‘ جی ہاں یہ عشق تھا جس نے دل میں رسول اللہﷺ کی تابعداری کا ایسا جذبہ پیدا کر دیا۔



















































