کھجور کے ایک تنے کو آپؐ سے محبت تھی‘ آپؐ نے جب مسجد نبوی بنائی تو اس میں منبر نہیں تھا‘ مسجد کے اندر کھجور کا ایک تنا تھا‘ اسی کے ساتھ ٹیک لگا کر آپؐ خطبہ دیا کرتے تھے‘ کچھ عرصہ کے بعد ایک صحابی تمیم داریؓ نے عرض کیا‘ اے اللہ کے رسولؐ اگر اجازت دیں تو ایک منبر بنا لیا جائے‘ آپؐ نے اجازت دے دی چنانچہ ایک منبر بنا لیا گیا‘
اگلی دفعہ جب خطبہ دینے کا وقت آیا تو آپؐ منبر پر کھڑے ہو ئے اور خطبہ دینا شروع کر دیا‘ تھوڑی دیر کے بعد کھجور کے اس تنے میں سے اس طرح رونے کی آواز آنے لگی جیسے کوئی بچہ بلک بلک کر روتا ہے سب لوگوں نے حیران ہو کر اس تنے کو دیکھا حضوراکرمﷺ اس منبر سے نیچے اترے اور کھجور کے تنے کے قریب گئے اس کے اوپر دست شفقت رکھا اور اس کو دلاسہ دیا۔ حدیث کی کتابوں میں لکھا ہے کہ حضورﷺ نے اس کو گلے سے لگایا تب وہ تنا اس طرح سسکیاں لیتے ہوئے چپ ہوا جیسے کوئی بچہ اپنی ماں کے سینے سے لگ کر چپ ہو جاتا ہے۔ کھجور کے تنے کو اتنی محبت تھی اے کاش! ہمیں پیارے پیغمبرﷺ کے ساتھ کھجور کے تنے جیسی محبت نصیب ہو جاتی۔
اب کسی کو دیکھوں گوارہ نہیں
بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین صبح ہوتے ہی حضوؐر کی زیارت کرنے آ جاتے تھے۔ انہوں نے قسمیں کھا لی تھیں ہم صبح اٹھتے ہی آپﷺ کی زیارت کریں گے‘ آپﷺ کی زیارت سے پہلے کسی دوسرے کا چہرہ نہیں دیکھیں گے‘ چنانچہ حضرت عبداللہ بن زید ابن عبدربہ نے آپؐ کے وصال کے بعد نابینا ہونے کی دعا کی اور اسی وقت نابینا ہو گئے۔



















































