ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

حضرت جابرؓ کے کھانے میں برکتوں کا ظہور

datetime 2  فروری‬‮  2017 |

حضرت جابر بن عبداللہؓ ایک صحابی ہیں ان کی بیوی کے پاس بکری کا ایک چھوٹا سا بچہ تھا‘ خندق کھودی جا رہی تھی‘ ان کے دل میں خیال آیا کہ نبی علیہ السلام کئی دنوں سے خندق کھود رہے ہیں‘ پتہ نہیں کہ کھانا بھی ملا ہے یا نہیں‘ لہٰذا میں گھر میں کھانا بنا دیتی ہوں‘ اللہ کے محبوبﷺ تشریف لے آئیں اور میرے گھر میں کھانا کھا لیں اور آرام فرما لیں‘ چنانچہ اس نے اپنے خاوند کو بھیجا کہ جائیں اور اللہ کے محبوبؐ کو دعوت دیں کہ حضرت! آپؐ خود بھی تشریف لائیں اور اپنے ساتھ دو تین حضرات کو بھی لے آئیں‘

ہمارے پاس تین چار بندوں کا کھانا ہے ہم چاہتے ہیں آپؐ تشریف لائیں اور کھانا تناول فرمائیں۔ حضرت جابرؓ نے آ کر نبی علیہ السلام کو دعوت دی‘ دعوت کاپیغام سن کر نبی علیہ السلام نے پوری فوج میں اعلان کروا دیا کہ آج جابر بن عبداللہؓ کے گھر میں دعوت ہے اور سب مجاہدین کھانا کھانے کے لئے ان کے گھر چلیں‘ جب حضرت جابرؓ نے یہ سنا تو تیزی سے گھر کی طرف چلے تاکہ میں جا کر بتاؤں کہ یہ مسئلہ بن گیا ہے نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
جابر! ہمارے آنے کا انتظار کرنا ہنڈیاں چولہے پر رہے اور روٹیاں چادر کے اندر چھپی رہیں میں خود آ کر شروع کراؤں گا‘ انہوں نے گھر جا کر اپنی بیوی سے کہا کہ اب نو سو آدمی آ رہے ہیں ان کی بیوی بڑھ سمجھ دار تھی‘ اس نے کہا اچھا مجھے ایک بات بتاؤ‘ کہ ان نو سو آدمیوں کو دعوت نے آپ نے دی ہے یا نبیؐ نے دی ہے۔ وہ کہنے لگے کہ میں نے تو صرف نبی علیہ السلام کو دعوت دی تھی‘ آگے نبی علیہ السلام نے اعلان کروایا ہے یہ سن کر وہ کہنے لگی اب فکر کی کوئی بات نہیں ہے جب کھانا تیار ہوا تو نبی علیہ السلام تشریف لے گئے صحابہ کرامؓ بھی پہنچ گئے۔ نبی علیہ السلام خود تقسیم کرنے بیٹھ گئے۔ آپﷺ روٹیاں نکال نکال کر دیتے رہے اور سالن بھر بھر کر دیتے رہے حتیٰ کہ نو سو آدمیوں نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا اور پورا لشکر پیٹ بھر کر واپس آ گیا‘ بعد میں حضرت جابرؓ نے دیکھا تو سالن بھی اتنا ہی تھا اور روٹیاں بھی اتنی ہی تھیں۔ سبحان اللہ

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…