حضرت ابوہریرہؓ کئی کئی دنوں تک بھوکے رہتے تھے‘ وہ فرماتے تھے کہ ایک دن مجھے بھوک لگی ہوئی تھی‘ میں بھوک کی وجہ سے اتنا تنگ تھا میں نے سوچا کہ نماز عشاء پڑھ کر مسجد نبویؐ میں بیٹھ جاؤں گا اور کوئی اپنے گھر لے جا کر کھانا کھلا دے گا‘ ان حضرات کو مہمان نوازی کی عادت تھی۔ کہنے لگے میں بیٹھا تھا حضرت ابوبکرصدیقؓ تشریف لائے۔ انہوں نے سلام تو کیا لیکن کھانے کی دعوت نہیں دی‘
حالانکہ ان کی عادت ایسی نہیں تھی‘ میں سمجھ گیا کہ آج ان کے گھر میں بھی کچھ نہیں ہے ورنہ مجھے دعوت ضرور دیتے‘ پھر حضرت عمرؓ آئے انہوں نے بھی سلام کیا اور چلے گئے میں سمجھ گیا کہ آج ان کے گھر میں بھی فاقہ ہے ان کے بعد اللہ کے نبی علیہ السلام تشریف لائے‘ مجھے دیکھ کر پہچان گئے اور مسکرا کر فرمایا ابوہریرہؓ آؤ تجھے کچھ کھلاتے ہیں میں کئی دنوں سے بھوکا تھا لہٰذا میں خوشی خوشی اللہ کے محبوبﷺ کے ساتھ چلنے لگا‘ نبی علیہ السلام نے گھر میں پیغام بھجوایا کہ گھر میں کچھ کھانے کو ہے تو دو‘ ام المومنینؓ نے جواب دیا کہ کھانے کو تو کچھ نہیں البتہ پینے کیلئے دودھ کا پیالہ پڑا ہے تو مجھے محسوس ہوا کہ ادھر بھی فاقہ ہے‘ پھر میں نے سوچا کہ چلو دودھ کا پیالہ تو پیتے ہیں اللہ کی شان کہ جب وہ دودھ کا پیالہ نبی علیہ السلام کے ہاتھوں میں آیا تو اللہ کے محبوبﷺ نے ارشاد فرمایا ابوہریرہؓ آ جاؤ‘ اصحاب صفحہ کو بلا لاؤ‘ اصحاب صفہ ستر آدمی تھے۔ فرماتے ہیں کہ میں سوچ میں پڑ گیا کہ اگر میں ان ستر بندوں کو بلاؤں گا تو نبی علیہ السلام ارشاد فرمائیں گے کہ اب تم ان کو دودھ پلاؤ اس کا مطلب ہے کہ
میرا نمبر آخر پر آئے گا پتہ نہیں کہ آج میرے لئے بچے گا یا نہیں‘ بہرحال میں گیا اور اصحاب صفہ کو بلا لیا۔
جب ستر اصحاب صفہ آ گئے تو نبی علیہ السلام نے مجھے ارشاد فرمایا: ابوہریرہ! ان سب کو دودھ پلاؤ کہتے ہیں کہ میں نے پیالہ لیا اور ایک صحابی کو پینے کیلئے دے دیا اور دیکھنے لگا کہ کچھ بچتا ہے یا نہیں‘ جب اس کا پیٹ بھر گیا تو اس نے پیالہ واپس دے دیا‘ میں نے دیکھا کہ کوئی خاص کمی نہیں آئی تھی‘ پھر میں نے دوسرے صحابیؓ کو دیا‘ حتیٰ کہ میں نے ستر صحابہؓ کو دودھ کا وہ پیالہ پلایا لیکن ابھی دودھ موجود تھا‘ اسکے بعد وہ پیالہ میرے ہاتھوں میں آیا‘ نبی علیہ السلام مجھے فرمانے لگے‘ ابوہریرہؓ! اب تو پی لے‘ چنانچہ ہم نے خوب سیر ہو کر پیا‘ جب میرا پیٹ بھر گیا اور میں نے بس کر دی تو نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا ابوہریرہؓ اور پی‘ چنانچہ میں نے اور پیا حتیٰ کہ خوب پیٹ بھر گیا اب جب ہم نے پیالہ ہٹایا تو اللہ کے محبوبﷺ دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا ابوہریرہؓ اور پی لے‘ میں نے پھر پیالہ منہ سے لگا لیا اور اتنا پی لیا کہ مجھے یوں محسوس ہوا کہ اب تو یہ باہر آ جائے گا میں نے کہا ‘ اے اللہ کے نبیﷺ اب میرا پیٹ بھر گیا ہے‘ نبی علیہ السلام مسکرائے اور پھر آپﷺ نے دودھ کا پیالہ لے کر اس میں سے دودھ نوش فرمایا اور دودھ ختم ہو گیا۔



















































