حضرت پیر مولانا ذوالفقار احمد نقشبندی نے ایک واقعہ سنایا کہ ہم لوگ ایک مرتبہ قزاقستان گئے تو ہمارے ساتھ امریکہ کے بھی کچھ دوست تھے۔ ایک جگہ میزبان نے علماء کو دعوت دی‘ اس نے ایک بکرا ذبح کر کے اس کا گوشت بھون کر سب کے سامنے رکھا‘ اب بھنا ہوا گوشت اچھا تو بڑا لگتا ہے مگر چربی ساتھ تھی‘ چربی سے تو آج کل کے نوجوان بھی گھبراتے ہیں اور ڈاکٹر بھی منع کرتے ہیں۔ ہم لوگ تو چن چن کر وہ بوٹیاں ڈھونڈتے جن کے ساتھ چربی بالکل نہ تھی ہمارے ساتھ ایک عالم آ کر بیٹھ گئے جن کی عمر ماشاء اللہ کہیں 95 سال تھی اور وہ صرف چربی کھا رہے تھے‘
ہم لوگ جو چربی اتار کے رکھتے وہ اس کو اٹھا کے کھا لیتے ہمارے لئے اس بات کو برداشت کرنا مشکل ہو گیا کہ اتنی چربی؟ جب ہم پریشان ہو گئے تو انہوں نے چمچ اٹھائی اور جو چربی نیچے شوربے میں تھی وہ بھر بھر کے پینا شروع کر دی چربی کی بوٹی کھاتے اور اوپر سے چربی کی چمچ پی لیتے‘ یا اللہ! اب تو ہمارے ہاتھ سے صبر کا دامن چھوٹ گیا‘ اس عاجز نے پہلے ان سے سلام دعا تو کیا ہی تھا اب ذرا تھوڑی بات بڑھائی اور ان سے پوچھا کہ آپ کی عمر کتنی ہو گی؟ کہنے لگے 95 سال۔ میں نے پوچھا کہ صحت ٹھیک رہتی ہے؟ فرمانے لگے کہ پچانوے سال کی عمر میں آج تک میں نے اپنے ہاتھوں سے ایک گولی بھی اپنے منہ میں نہیں ڈالی نہ میں نے آج تک کسی ڈاکٹر کو اپنا ہاتھ دکھایا‘ ہم لوگ ان کا منہ تکتے رہ گئے‘ یہ عمر میں برکت ہے۔
نسبت کے احترام پر گناہوں کی بخشش
حضرت کعب احبارؓ وہ صحابی تھے جو علماء بنی اسرائیل میں سے تھے۔ انہوں نے بعد میں اسلام قبول کر لیا‘ انہیں دو پیغمبروں پر ایمان لانے کی سعادت نصیب ہوئی دنیا میں بھی سعادت ملی اور قیامت کے دن بھی ان کو دوہرا اجر ملے گا۔
وہب بن منبہ ان کا عمل نقل کرتے ہیں کہ جب نماز کا وقت ہوتا تو ان کی کوشش ہوتی تھی کہ وہ آخری صف میں نماز پڑھیں جبکہ دوسرے لوگ دوڑ دوڑ کر پہلی صف میں جاتے کیونکہ پہلی صف کے بارے میں جو اجروفضیلت حدیث میں آئی ہے ان کے شاگردوں نے جب ان کا یہ عمل دیکھا تو پچھا‘ حضرت! دوسرے لوگ تو پہلی صف کیلئے کوشش کرتے ہیں اور آپؓ پہلی صف کی کوشش نہیں کرتے۔ پچھلی صف میں ہی کھڑے ہو کر نماز پڑھ لیتے ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ حضرت کعبؓ نے فرمایا کہ میں نے تورات اور اس کے علاوہ باقی آسمانی کتابوں میں پڑھا ہے کہ امت محمدیہﷺ میں سے بعض ایسے بندے ہوں گے جو اپنے پروردگار کو اتنے مقبول ہوں گے کہ جہاں کھڑے ہو کر وہ نماز پڑھیں گے ان کے پیچھے اقتداء کرنے والے جتنے ہوں گے اللہ تعالیٰ ان سب کے گناہوں کو معاف فرما دیں گے۔ اس لئے میں چاہتا ہوں کہ میرے نیک بھائی سب آگے ہوں ممکن ہے کہ کسی کی برکت سے اللہ تعالیٰ ہم سب کے گناہوں کو معاف فرما دیں۔



















































