حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی نے بتایا کہ حضرت خواجہ محمد عبدالمالک رحمتہ اللہ علیہ چوک قریشی والے اپنے آپ کو بکڑوال کہا کرتے تھے‘ بہت بڑے شیخ تھے‘ انہوں نے یہ واقعہ مسجد میں بیٹھ کر باوضو سنایا اور اس عاجز نے مسجد میں بیٹھ کر باوضو سنا‘ اب مسجد میں باوضو آپ حضرات کوسنا رہا ہوں۔ پوری ذمہ داری کے ساتھ‘ الفاظ میں تبدیلی تو وہ سکتی ہے مفہوم میں تبدیلی نہیں ہو سکتی‘ سمجھ گئے تو یہ روایت بالمعنی ہے کہ مفہوم بالکل وہی ہو گا الفاظ اپنے ہوں گے۔
فرمانے لگے کہ میں اللہ اللہ کیا کرتا تھا اور اپنے شیخ کی بکریاں چرایا کرتا تھا‘ بکریاں خود بھی کھاتیں اور میں بھی گھاس توڑ توڑ کر ان کو کھلاتا‘ جب بکریاں واپس آتیں تو میں شام کو گھاس کی ایک گٹھڑی بھی سر پر لے آتا تاکہ رات کو بھی بکریاں گھاس کھائیں‘ میرے دوست احباب تو حضرت رحمتہ اللہ علیہ کی صحبت میں بیٹھتے اور میں حضرت رحمتہ اللہ علیہ کی بکریاں چرایا کرتا تھا۔
ایک دفعہ خواجہ فضل علی قریشی رحمتہ اللہ علیہ کو اللہ تعالیٰ کی طًرف سے اشارہ ہوا کہ تم عبدالمالک کو خلافت دے دو‘ فرماتے ہیں کہ جب خلافت ملی تو میں بہت حیران ہوا کہ میں تو اس قابل نہیں تھا‘ ایک دو گھنٹہ تو روتا ہی رہا۔ دوسرے خلفاء نے تسلی دی کہ جب اللہ تعالیٰ نے ایک بوجھ سر پر رکھا ہے تو اٹھانے کی توفیق بھی دیں گے‘ کہنے لگے کہ میں نے اپنے دل میں نیت کر لی کہ میں تو کچھ بھی نہیں ہوں اگرچہ حضرت رحمتہ اللہ علیہ نے یہ امانت دے دی ہے مگر میں یہ آگے کسی کو دینے کا اہل نہیں اس لئے میں کسی شخص کو بیعت نہیں کروں گا اس طرح حضرت کی خدمت میں ایک سال گزر گیا۔
ایک دفعہ سردیوں کے موسم میں آگ تاپ رہے تھے کہ میری طرف غصے سے دیکھا‘ میرے تو پاؤں کے نیچے سے زمین ہی نکل گئی‘ میں نے پوچھا حضرت! خیریت تو ہے؟ فرمانے لگے کہ ابھی ابھی مجھے کشف میں نبی علیہ السلام کادیدار نصیب ہوا ہے محبوبؐ نے فرمایا ہے کہ عبدالمالک سے کہو کہ اس نعمت کو تقسیم کرے ورنہ ہم اس نعمت کو واپس لے لیں گے اور چونکہ محبوبﷺ کی طرف سے یہ حکم ہے اس لئے تم اپنا بستر اٹھاؤ اور جیسے ہی اندھیرا ختم ہو اپنے گھر جاؤ وہاں جا کے لوگوں کو اللہ اللہ سکھاؤ‘ میں تو روتا رہ گیا اور حضرت نے میرا سامان میرے سر پر رکھا اور خانقاہ سے رخصت کر دیا‘ فرمانے لگے میں نے نکلتے نکلتے کہا حضرت! میں اب کوئی کام کرنے کے قابل نہیں ہوں کیونکہ اتنے سال ذکر اذکار میں گزار دیئے‘ اس لئے میرے لئے رزق کی دعا فرما دیں‘ فرمایا کہ ’’اللہ صبر والوں کے ساتھ ہے‘‘۔ میرے قریبی تعلق داروں اور رشتہ داروں میں کوئی ایک رشتہ گھر والوں نے پہلے ہی طے کیا ہوا تھا چنانچہ گھر آتے ہی ماں باپ نے میری شادی کر دی‘ شادی بھی عجیب کہ اس کے بعد کھانے کیلئے ہمارے پاس کچھ ہوتا ہی نہیں تھا‘ بیوی مجھے ایسی صابرہ ملی کہ وہ مجھے کہتی کہ آپ درخت کے پتے ہی لے آئیں میں درخت کے پتے لاتا وہ بھی کھا لیتی میں بھی کھا لیتا اور ایک وقت کا گزارہ کر لیتے۔
ایک دن میرا ایک پیر بھائی میرے گھر آیا وہ حضرت رحمتہ اللہ علیہ کے پاس گیا ہوا تھا جب وہ آنے لگاتو حضرت رحمتہ اللہ علیہ نے اسے ایک چھوٹی سی دس کلو گندم کی بوری دی اور ایک رقعہ دیا اور فرمایا کہ یہ عبدالمالک کو دے دینا۔
وہ دوپہر کو میرے گھر پہنچا اور دروازہ کھٹکھٹایا‘ پسینے میں شرابر بوری سر پر اٹھائی ہوئی تھی‘ میں نے پوچھا سناؤ بھی! کہاں جا رہے ہو؟ اس نے کہا خانقاہ شریف وہ یہ سمجھا کہ پوچھ رہے ہیں کہ کہاں سے آ رہے ہو؟ اب میں کچھ پوچھ تھا وہ کچھ بتا رہا تھا‘ میں نے اسے بٹھایا کہ یہ خانقاہ شریف جا رہا ہے اور لنگر کیلئے یہ گندم لے کر جا رہا ہے گھر آ کر بیوی سے کہا کہ مہمان کیلئے کھانا دو اس نے کہاکہ گھر میں تو کچھ بھی نہیں ہے مگر بیوی سمجھ دار تھی۔ اس نے مجھے کہا کہ اگر وہ خانقاہ کیلئے گندم لے کے جا رہا ہے تو اس سے جا کے اجازت مانگ لو کہ ہم اس گندم میں سے تھوڑی سی پیس لیں پھر اس آٹے کی روٹی پکا کر اس کو کھلا دیتے ہیں۔
کہنے لگے کہ اس میں بھلا کون سی شرم کی بات ہے میں نے اسے کہا کہ اگر اجازت ہو تو اس گندم میں سے تھوڑی سے روٹی بنا دی جائے‘ وہ فرمانے لگے کہ میں یہ سمجھا کہ گندم تو گھر میں بھی پڑی ہے لیکن چونکہ آپ میرے حضرت سے لائے ہیں تو برکت کیلئے ہم اسی میں سے روٹی پکا دیتے ہیں کہنے لگے کہ ہاں اسی میں سے پکا دیں میں نے اس میں سے تھوڑی سی گندم لی‘ بیوی کو دی اس نے چکی میں ڈالی اور آٹا نکال کر اور چکی کے پاٹوں کو اچھی طرح صاف کر کے پورے آٹے کی روٹی پکا کر سامنے رکھ دی۔
جب مہمان نے روٹی کھا لی تو ہم نے اسے لسی پلا کے سلا دیا‘ سونے کے بعد جب وہ اٹھا تو اس نے ایک رقعہ دیا‘ میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ اس نے کہا کہ یہ بھی حضرت نے دیا ہے تب بات سمجھ میں آئی کہ حضرت رحمتہ اللہ علیہ نے وہ گندم کی چھوٹی سی بوری اس عاجز کی خانقاہ کیلئے دی تھی‘ کہنے لگے کہ میں خانقاہ کا لفظ سن کے حیران ہوا‘ خود کھانے کو ملتا نہیں اور لنگر کیلئے گندم آئی ہے میں نے بیوی کو جا کر بتایا کہنے لگی کہ پڑھو تو سہی لکھا کیا ہے میں نے پڑھا تو لکھا ہوا تھا کہ عبدالمالک! تم اللہ اللہ کرو اور کراؤ اور اس گندم کو کسی بند جگہ میں ڈال دو اور اس رقعے کو بھی اس میں ڈال دینا اور ایک سوراخ بنا لیا اور اس میں سے تم گندم نکال کر استعمال کرنا۔ یہ تمہارے لنگر کیلئے ہے‘ نیچے لکھا ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
میری بیوی نے ایک بند جگہ میں وہ گندم ڈال دی‘ اوپر سے ڈھکنا اچھی طرح بند کر دیا‘ میری بیوی نے اس کے نیچے گندم نکالنے کیلئے سوراخ بنا دیا‘ وقتاً فوقتاً وہ اس میں سے کچھ گندم نکالتی اور استعمال کرتی‘ الحمد للہ آج اس گندم کو استعمال کرتے ہوئے ہمیں چالیس سال گزر گئے ہیں آج بھی میری خانقاہ میں دو تین سو سالکین تک کا روزانہ مجمع رہتا ہے اور سال کے آخر پر ہزار سے زیادہ لوگ اجتماع میں شریک ہوتے ہیں۔ چالیس سال سے ہم لوگ اسی گندم کو استعمال کر رہے ہیں۔



















































