کتابوں میں لکھا ہے کہ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ نے خواب میں دیکھا کہ امام احمد بن حنبلؒ خلق قرآن کے مسئلہ کے بارے میں کچھ آزمائشیں آئیں گی لیکن اللہ تعالیٰ ان کو کامیاب فرما دیں گے۔ امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کے شاگرد بھی تھے‘ امام شافعی نے اپنے ایک شاگرد کو بھیجا کہ جاؤ اور امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ کو یہ خواب سنا دو چنانچہ اس شاگرد نے جا کر خواب سنا دیا
کہ خلق قرآن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائشیں آئیں گی اور اللہ تعالیٰ اس آزمائش میں آپ کو کامیاب فرما دیں گے اب ظاہر میں تو تکالیف پہنچنے والی بات تھی مگر اللہ والے تو دیکھتے ہیں کہ اس آزمائش میں ہم کامیاب ہوں گے یا نہیں اس خواب میں تو بشارت بھی تھی کہ کامیاب ہوں گے۔
نبی اکرمﷺ کی یہ سنت ہے کہ اگر کوئی خوشخبری لائے تو خوشخبری لانے والے کو کچھ ہدیہ پیش کر دیا جائے چنانچہ امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ کے پاس ان کا اپنا ایک جبہ پڑا ہوا تھا‘ انہوں نے وہ جبہ اس آنے والے بندے کو ہدیہ کے طور پر پیش کر دیا‘ جب شاگرد نے جا کر امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کو کارگزاری سنائی تو امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ نے وہ جبہ حاصل کرنے کی فرمائش ظاہر کی‘ شاگرد نے امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کے حوالے کر دیا‘ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ اس جبہ کو پانی میں ڈبو کر رکھتے اور وہ پانی بیمار کو پلا دیتے تو اللہ تعالیٰ بیمار کو شفا عطا فرما دیتے تھے‘ اللہ تعالیٰ نے امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ کے جبہ میں اتنی برکت رکھ دی تھی کہ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ جیسی عظیم شخصیت اس جبہ سے بکت حاصل کرتی تھی۔
اللہ والوں کے ہدیہ کی برکت نہ پوچھئے
حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ کا ایک مرید بڑا پریشان ہو کر کہنے لگا حضرت! حج کا ارادہ ہے لیکن کچھ بھی پاس نہیں‘ فرمایا حج پر جاؤ اور میری طرف سے یہ دینا لے کر جاؤ‘ اس نے کہا کہ بہت اچھا‘ وہ حضرت رحمتہ اللہ علیہ سے دینا لے کرباہر نکلا‘ ابھی بستی کے کنارے پر ہی تھا تو دیکھا کہ ایک قافلہ جا رہا ہے اس نے بھی قافلہ والوں کو سلام کیا۔ انہوں نے جواب دیا پوچھا بھئی! بتاؤ کہاں کا ارادہ ہے؟ انہوں نے کہا کہ حج پر جا رہے ہیں اس نے کہا میں بھی حج پر جا رہاہوں مگر میں تو پیدل چلوں گا‘ وہ کہنے لگا کہ ایک آدمی نے ہمارے ساتھ جانا تھا وہ بیمار ہو گیا جس کی وجہ سے وہ پیچھے رہ گیا ہے اس کا اونٹ خالی ہے آپ اس پر سوار ہو جائیے یہ شخص اونٹ پر بیٹھ کر گیا اب جہاں قافلے والے رکتے اور کھانا پکاتے اس کو مہمان سمجھ کر ساتھ کھلاتے پورا حج کا سفر اسی طرح طے کیا‘ آخر کار ان کے ساتھ حج کر کے واپس آیا اور بستی کے کنارے پر انہوں نے اسے اتارا‘ اس کو کہیں بھی خرچ کرنے کی ضرورت پیش نہ آئی‘ شیخ کی خدمت میں حاضر ہوا کہنے لگا حضرت! عجیب حج کیا‘ میں تو مہمان ہی بن کر پھرتا رہا اور اب یہاں پہنچ گیا ہوں‘ حضرت نے فرمایا کہ تمہارا کچھ خرچ ہوا؟ عرض کیا کہ کچھ بھی خرچ نہیں ہوا‘ فرمانے لگے کہ میرا دینار واپس کر دو۔ اللہ والوں کا ایک دینار بھی خرچ نہیں ہوتا برکت ایسی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس دینار کو خرچ ہی نہیں ہونے دیتے یہ مال میں برکت تھی جو اللہ تعالیٰ نے عطا فرما دی تھی۔



















































