ایک بزرگ کہیں جا رہے تھے‘ راستہ میں ان کو ایک آدمی ملا‘ انہوں نے پوچھا تم کون ہو؟ کہنے لگا میں آتش پرست (آگ کی پوجا کرنے والا) ہوں‘ دونوں نے مل کر سفر شروع کر دیا‘ راستہ میں دونوں آپس میں بات چیت کرنے لگے‘ اس بزرگ نے اس کو سمجھایا کہ آپ خواہ مخواہ آگ کی پوجا کرتے ہیں‘ آگ تو خدا نہیں‘ خدا تو وہ ہے جس نے آگ کو بھی پیدا کیا ہے وہ نہ مانا آخرکار اس بزرگ کو بھی جلال آ گیا‘ انہوں نے فرمایا اچھا اب ایسا کرتے ہیں کہ آگ جلاتے ہیں اور دونوں اپنے اپنے ہاتھ آگ میں ڈالتے ہیں جو سچا ہو گا آگ کا اس پر کچھ اثر نہیں ہو گا اور جو جھوٹا ہو گا آگ اس کے ہاتھ کو جلا دے گی وہ بھی تیار ہو گیا۔
انہوں نے اس جنگل میں خوب آگ جلائی‘ آگ جلانے کے بعد مجوسی گھبرانے لگا‘ جب اس بزرگ نے دیکھا کہ اب پیچھے ہٹ رہا ہے تو انہوں نے اس کا بازو پکڑ لیا اور اپنے ہاتھ میں اس کا ہاتھ تھام کر آگ میں ڈال دیا‘ بزرگ کے دل میں تو پکا یقین تھا کہ میں مسلمان ہوں اور اللہ تعالیٰ میری حقانیت کو ضرور ظاہر فرمائیں گے‘ جس سے دین اسلام کی شان و شوکت بھی واضح ہو جائے گی لیکن اللہ کی شان کہ نہ اس بزرگ کا ہاتھ جلا اور نہ اس آتش پرست کا‘ وہ آتش پرست بڑا خوش ہوا اور یہ بزرگ دل ہی دل میں بڑے رنجیدہ ہوئے کہ یہ کیا معاملہ ہوا۔ چنانچہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوئے اور عرض کیا اے اللہ! میں سچے دین تھا ‘ آپ نے مجھ پر تو رحمت فرما دی کہ میرے ہاتھ کو محفوظ فرما لیا یہ آتش پرست تو جھوٹا تھا آگ اس کے ہاتھ کو جلا دیی جب انہوں نے یہ بات کہی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں یہ بات القا فرمائی کہ میرے پیارے ہم اس کے ہاتھ کو کیسے جلاتے جب کہ اس کے ہاتھ کو آپ نے پکڑا ہوا تھا۔ سبحان اللہ! اللہ تعالیٰ نسبت کی یوں لاج رکھ لیتے ہیں مجوسی تو پکا کافر تھا مگر اس کے ہاتھ کو وقتی طور پر ایک اللہ والے کے ہاتھ کے ساتھ سنگت نصیب ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے اسے بھی آگ سے محفوظ فرما دیا۔



















































