حضرت انسؓ فرماتے ہیں نبی علیہ السلام نے مجھے دعا دی کہ اللہ اس کے رزق اور اولاد میں برکت عطا فرما‘ محبوبﷺ کی دعا ایسی پوری ہوئی کہ میرے پاس اتنا مال تھا کہ سونے کی اینٹوں کو میں لکڑی کاٹنے والے کلہاڑے سے توڑا کرتا تھا‘ ماشاء اللہ فرماتے تھے کہ میرے گھر میں درہم و دینار کا اتنا ڈھیر لگ جایا کرتا تھا کہ اس کے پیچھے بندہ چھپ جایا کرتا تھا‘ اللہ تیری شان اولاد اتنی کہ میں نے اپنی زندگی میں ایک سو سے زیادہ پوتے پوتیاں‘ نواسے نواسیاں اپنی آنکھیوں سے دیکھے۔سبحان اللہ
دھڑ بغیر سر کے بھاگتا ہی رہا
تاریخ میں ایک عجیب واقعہ لکھا ہے کہ جب شاہ اسماعیل شہید رحمتہ اللہ علیہ چاروں طرف سے گھیر لئے گئے تو ایک سکھ نے نبی علیہ السلام کی شان میں گستاخی کے الفاظ کہے اور دوسرے نے ان کے اوپر تلوار تان لی۔ شاہ اسماعیل شہید رحمتہ اللہ علیہ کے دل میں عشق رسالتؐ کی ایسی کیفیت تھی کہ آپ ان نازیبا الفاظ کو سن کر تڑپ اٹھے اور آپ نے قسم کھائی کہ میں اس وقت تک نہیں مروں گا جب تک کہ میں تیرا کام تمام نہیں کر لوں گا یہ کہہ کر آپ نے اس کے اوپر خنجر لہرا یا مگر دوسر سکھ نے آپ پر تلوار کا وار کیا آپ کا سر آپ کے تن سے جدا ہو گیا اور جدا ہو کر گر گیا۔ عجیب بات ہے کہ بدن چونکہ حرکت میں آ چکا تھا اور ہاتھ میں خنجر تھا لہٰذا بدن بغیر سر کے اس کے پیچھے بھاگتا رہا جب سکھ نے دیکھا کہ بغیر سر کے یہ بدن میری طرف بھاگ رہا ہے تو وہ ڈر کے مارے پیچھے گرا آپ اس کے اوپر گرے اور آپ کا خنجر اس کے سینے میں پیوست ہو گیا‘ اس طرح آپ کی قسم اللہ رب العزت نے پوری فرما دی۔ حدیث پاک میں آتا ہے کہ اللہ کے کچھ بندے ایسے ہوتے ہیں کہ اللہ رب العزت کے ہاں ان کا وہ مقام ہوتا ہے کہ جب وہ قسم کھا لیا کرتے ہیں تو اللہ رب العزت ان کی قسم کو پورا کر دیا کرتے ہیں۔



















































