حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی نے بتایا کہ حضرت سید زوار حسین شاہ رحمتہ اللہ علیہ سے میں نے ایک واقعہ خود سنا‘ ان کے دور میں ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر صاحب کا ایک مجذوب کے پاس اٹھنا بیٹھنا تھا‘ وہ مجذوب فوت ہونے لگا تو ان کو کوئی چیز کھانے کو دے گیا‘ انہوں نے وہ چیز کھائی تو وہ بھی مجذوب بن گئے اب وہ ایم بی بی ایس ڈاکٹر بغیر ازار بند کے صرف ایک پاجامہ پہننے لگ گئے۔
حالت یہ تھی کہ پاجامہ ہاتھ میں لے کر چلتے پھرتے تھے وہ ڈاکٹر صاحب ایک حکیم صاحب کے پاس آتے جاتے تھے۔
حضرت رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ایک دفعہ ہم بھی حکیم صاحب سے ملنے گئے تو اوپر سے وہ ڈاکٹر صاحب بھی آ گئے‘ حکیم صاحب نے ڈاکٹر صاحب کو دیکھ کر انہیں فرمایا کہ میں ذرا مصروف ہوں‘ ملنے والے بیٹھے ہیں‘ اس لئے تھوڑی دیر تشریف رکھیں‘ انہوں نے اشارہ کیا ٹھیک ہے‘ اس کے بعد وہ ہمارے ہی پاس بیٹھ گئے میں حیران تھا کہ جب میں ان کی طرف دیکھتا تو وہ ادھر ادھر دیکھنے لگیت اور جب میں ادھر ادھر دیکھتا تو وہ فوراً میرا چہرہ دیکھنا شروع کر دیتے۔ تھوڑی دیر کے بعد انہوں نے حکیم صاحب کے کاغذوں میں سے ایک کاغذ اٹھایا اور قلم لے کر کچھ گنگانے بھی لگے اور لکھنے بھی لگے‘ جب میں نے ان کی گنگناہٹ پر تھوڑی سی توجہ دی تو مجھے محسوس ہوا کہ وہ عربی میں بہت ہی عجیب اشعار پڑھ رہے ہیں سمجھ تو نہیں آتی تھی مگر اس کی سر ایسی بنتی تھی کہ اس سے میں نے پہچان لیا کہ وہ محبت الٰہی کے اشعار گنگنا رہے ہیں
حالانکہ ایم ابی بی ایس ڈ اکٹر کو عربی سے کیا واسطہ؟ یہ بیچارے تو ٹٹ مٹ پڑھتے ہیں۔
تھوڑی دیر کے بعد وہ ڈاکٹر صاحب اٹھے اور اشارہ کیا کہ اب میں جاتا ہوں حکیم صاحب نے کہا ڈاکٹر صاحب کیا بات ہے کہ آپ اتنے دن ہمارے پاس نہیں آئے؟ ڈاکٹر صاحب کہنے لگے ’’اب ہم دال ہو گئے ہیں یہ کہہ کر ڈاکٹر صاحب چلے گئے بعد میں حکیم صاحب نے سید زوار حسین شاہ رحمتہ اللہ علیہ سے عرض کیا کیا آپ کو پتہ چلا کہ یہ کیا کہہ گئے ہیں؟ حضرت نے فرمایا میں تو نہیں سمجھا‘ حکیم صاحب کہنے لگے کہ یہ کہہ گئے ہیں اب ہم دال ہوگئے‘‘ مطلب یہ کہ اب میں ابدال بن گیا ہوں۔ صحیح بتانے کی بجائے کہ ہم ابدال ہو گئے اس نے اب کو پہلے اور دال کو بعد میں۔ حضرت فرماتے ہیں کہ مجھے بھی حیرانی ہوئی کہ واقعی بات تو ایسی ہی کر گیا ہے لیکن حکیم صاحب نے اشارہ سمجھ لیا۔
پھر اس کے بعد انہوں نے ایک عدسہ منگوایا جو حروف کو بڑا کر کے دکھاتا ہے اس کی مدد سے یدکھا تو میں حیران رہ گیا کہ ظاہراً تو نظر آتا تھا کہ انہوں نے ایسے ہی نشان سے لگا دیئے ہیں لیکن جب اس نے بڑے کر کے دیکھا تو پتہ چلا کہ عربی کا شعر اتنا خوبصورت لکھا ہا تھا کہ ایسا تو کوئی کاتب بھی نہیں لکھ سکتا تھا۔



















































