حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی نے بتایا کہ مجھے ایک نوجوان ملا اور کہنے لگا میں کل اپنے ایک دوست کو لاؤں گا وہ کافر ماں باپ کا بیٹا ہے میں اس سے کئی دن سے اسلام کے بارے میں بات کر رہا ہوں‘ اب اس نے کلمہ پڑھنا ہے آپ مجھے بتا دیجئے کہ آپ کب وقت دیں گے‘
تاکہ وہ آ کر آپ کے ہاتھ پر مسلمان ہو سکے‘ میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے میں نے کہا بچہ! وہ دن میں آئے یا رات میں‘ اگر کلمہ پڑھنا چاہتا ہے تو میں اس کیلئے ہر وقت کی قربانی دینے کیلئے تیار ہوں مجھے خوشی ہوئی کے سمرقند کے بچے آج دین کے نمائندے بن کر زندگی گزار رہے ہیں ۔ میرے نزدیک وہاں پر مساجد بنانے سے زیادہ ان سکولوں‘ کالجوں اور یونیورسٹیوں کا قائم کرنا زیادہ ضروری ہے‘ اس لئے کہ نماز تو سکول اور کالج کے کسی بھی کمرے میں پڑھی جا سکتی ہے یہ مسجد کا بھی رخ نہیں کریں گے اگر ان کو وہاں کے مقامی سکولز اور کالجز میں جانا ہے آپ جو کچھ مسجد میں بتائیں گے سکول اور کالج والے اس پر پانی پھیر دیں گے‘ الحمد للہ کہ وہاں کی صورتحال کے مطابق ضرورت پوری ہو گئی ہے۔ اس لئے کہ نماز تو سکول اور کالج کے کسی بھی کمرے میں پڑھی جا سکتی ہے یہ مسجد کا بھی رخ نہیں کریں گے اگر ان کو وہاں کے مقامی سکولز اور کالجز میں جانا ہے آپ جو کچھ مسجد میں بتائیں گے سکول اور کالج والے اس پر پانی پھیر دیں گے‘ الحمد للہ کہ وہاں کی صورتحال کے مطابق ضرورت پوری ہو گئی ہے۔



















































