حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی نے ایک واقعہ سنایا کہ ان کے ایک دوست میڈیکل ڈاکٹر تھے ان کا ایک بہت ہی ذہین بیٹا تھا جو بہت عبادت گزار تھا‘ اسے ہر سال عمرہ کرنے کا شوق تھا‘ ماں کو بھی عمرہ کیلئے لے جاتا اور دوسرے فیملی ممبرز کو بھی‘ اکثر اسلام کا مطالعہ کرتا رہتا تھا‘ مگر کچھ عرصہ کے بعد وہ دہریہ بن گیا‘ اس کے والد جب اسے میرے پاس لے کر آئے تو کہنے لگے‘ جی یہ لڑکا اب بالکل دہریہ ہے‘ یہ دین اسلام کو مانتا ہی نہیں۔
میں نے اسے بٹھایا اور اس سے پوچھا معاملہ کیا ہے؟ اس نے کہا کہ میں آپ کو سیدھی اور صاف بات بتاتا ہوں‘ میرا ٹیچر ایک غیر مسلم تھا‘ اس نے مجھے پہلے تویہودیت کی طرف مائل کرنے کی کوشش کی مگر میں مائل نہ ہوا‘ جب اس نے دیکھا کہ یہودی تو بنا نہیں اور بڑا پکا مسلمان ہے اس کے بعد اس نے مجھے ڈارون کی تھیوری پڑھانا شروع کر دی‘ اس نے ڈارون تھیوری کی آڑ میں مجھے ایسا پریشان کر دیا کہ میں دہریہ بن گیا۔
میں نے کہا کہ آپ کے ذہن میں جو سوالات ہیں وہ پوچھئے‘ ہمارے پاس اگلی نماز تک کیلئے تین گھنٹے ہیں‘ اس نے ڈارون تھیوری بیان کرنا شروع کر دی‘ پھر اس کے بعد اس کے بارے میں سوالات پوچھنے شروع کر دیئے‘ الحمد للہ میں اس کو جواب دیتا رہا‘ ساتھ ساتھ دعائیں بھی کرتا رہا او رتوجیہات بھی دیتا رہا تین گھنٹے وقت دیا ہوا تھا مگر اللہ رب العزت نے ایسی مہربانی فرمائی کہ ٹھیک پچاس منٹ کے بعد وہ کہنے لگا کہ مجھے کلمہ پڑھا کر دوبارہ مسلمان بنا دیجئے۔ الحمد للہ‘ ثم الحمد للہ‘ کمرے سے نکل کر اس نے وضو کیا اور باپ کے سامنے کھڑا ہو کر نماز پڑھنے لگا‘ اس کے باپ کی آنکھوں سے جو آنسو رواں ہوئے ان کی کیفیت کو میں کبیھ نہیں بھول سکتا‘ اس کو تو گویا نیا بیٹا مل گیا‘ پھر اس کے دل سے جو دعائیں نکل رہی تھیں ان دعاؤں کاکوئی آدمی بھلا کیا تصور پیش کر سکتا ہے۔



















































