حضرت امام مالک رحمتہ اللہ علیہ سے فتویٰ پوچھا گیا‘ انہوں نے حکام کی مرضی کیخلاف فتویٰ دیا۔ ان کو سزا کے طور پر گدھے پر بٹھایا گیا اوران کے چہرے پر سیاہی مل دی گئی۔ پھر وقت کے حاکم نے حکم دے دیا کہ انہیں مدینہ میں پھراؤ۔ لہٰذا مدینہ منورہ کے امام اور فقیہ کے چہرے کو سیاہ کر دیا گیا اور گدھے پر بٹھا کر پھرایا گیا۔
اب حضرت امام مالک رحمتہ اللہ علیہ کی جرأت دیکھئے کہ فرمانے لگے لوگو! تم میں سے جو پہچانتا ہے کہ میں امام مالک ہوں وہ تو پہچانتا ہے اور جو نہیں پہچانتا وہ بھی سن لے میں انس کا بیٹا مالک ہوں۔ دین کے معاملے میں انہوں نے ملامت کرنے والے کی ملامت کی کوئی پرواہ نہیں کی۔



















































