صحابہ کرامؓ نے جب فارس پر حملہ کیا تو ایک ایسے شہر کا محاصرہ کیا جس میں بادشاہ کا تخت بھی تھا۔ محاصرہ کئے ہوئے مسلمانوں کو کافی دن گزر گئے۔ بادشاہ نے اپنے ہمنواؤں سے مشورہ کیا کہ ان لوگوں سے کیسے چھٹکارا حاصل کیا جائے۔ یہ تو جدھر بھی قدم اٹھاتے ہیں کامیاب ہو جاتے ہیں اگر یہ ہم پر مسلط ہو گئے تو ہم کیا کریں گے۔ لوگوں نے مشورہ دیا کہ بادشاہ سلامت! آپ ان کو بلا کر اپنا دبدبہ اور جاہ و جلال دکھائیں۔
یہ بھوکے ننگے لوگ ہیں یہ ہمارے مال و دولت سے ڈر جائیں گے۔ اس نے کہا بہت اچھا چنانچہ اس نے پیغام بھجوایا کہ صلح کیلئے کوئی بندہ بھیجو۔ جو مذاکرات کرے۔ صحابہ کرامؓ نے ایک صحابی کو اس طرف روانہ کیا۔
یہ ایسے صحابی تھے جن کا کرتہ پھٹا ہوا تھا اور ببول کے کانٹوں سے سلا ہوا تھا۔ ان کے بیٹھنے کیلئے گھوڑے پر زین نہیں تھی بلکہ ننگی پیٹھ پر بیٹھ کر آئے اور ہاتھ میں صرف نیزہ تھا۔ وہاں جا کر بادشاہ کے تخت پر بیٹھ گئے۔ بادشاہ کو بڑا غصہ آیا کہنے لگا۔ تمہیں کوئی لحاظ نہیں کہ تم کس کے پاس آئے ہو؟ نہ کوئی ادب کا خیال ہے‘ نہ طریقہ نہ سلیقہ‘ فرمایا کہ ہمارے محبوبﷺ نے ہمیں بادشاہوں کے دربار میں اسی شان سے آنے کا طریقہ سکھایا ہے۔یہ سن کر اسے بڑا غصہ آیا۔ کہنے لگا تم کیا چاہتے ہو؟ اسلام قبول کر لے سلامتی پاجا۔ کہنے لگا نہیں قبول کرتا۔فرمایا کہ اگر نہیں قبول کرتا تو پھر حکومت ہماری ہو گی اور تمہیں رہنے کی پوری آزادی ہو گی۔ اس نے کہا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم اپنی حکومت ایسے بھوکے ننگے غریب لوگوں کے حوالے کر دیں۔ صحابی فرمانے لگے۔ اچھا یاد رکھنا کہ اگر یہ بات نہ مانی تو ہم تمہارے ساتھ جنگ کریں گے۔ تلوار ہمارا اور تمہارا فیصلہ کرے گی اور تمہاری بیٹیاں ہمارے بستر بنایا کریں گی۔ بھرے دربار میں تلواروں کے سائے میں بادشاہ کو بے خوف ہو کر یہ بات کہہ دی۔ درباریوں کے سامنے بادشاہ کی بڑی سبکی ہوئی۔ کہنے لگا اچھا تمہاری تویہ زنگ بھری تلواریں ہیں تم ان کے ساتھ ہمارا کیا مقابلہ کرو گے؟ آپ تڑپ کر بولے اے بادشاہ! تم نے ہماری زنگ بھری تلوروں کو تو دیکھا ہے لیکن تلواروں کے پیچھے والے ہاتھوں کو نہیں دیکھا۔ تمہیں پتہ چل جائے گا کہ کن ہاتھوں میں یہ تلواریں ہیں۔ انہوں نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا۔ اللہ رب العزت نے ان کو کامیابی سے ہمکنار کر دیا۔



















































