ہندوستان سے اسلام اور مسلمانوں کو ختم کرنے کے لئے انگریزوں کی پالیسی یہ تھی کہ
* سب سے پہلے قرآن مجید کو ختم کرنا چاہئے۔
* علماء کرام کا قتل عام
* جذبہ جہاد کو ختم کرنا چاہئے
* یہ تین باتیں لب لباب تھیں۔
چنانچہ انگریز نے اس پر عملدرآمد شروع کر دیا۔ تین سال کے اندر قرآن پاک کے تین لاکھ نسخے نذر آتش کر دیئے اور چودہ ہزار علماء کرام کو پھانسی دی گئی۔
تھامسن اپنی تاریخ میں لکھتا ہے کہ دہلی سے لے کر پشاور تک جرنیلی سڑک کے دونوں طرف کوئی بڑا درخت ایسا نہیں تھا جس پر کسی عالم کی لاش لٹکتی نظر نہ آرہی ہو۔ بادشاہی مسجد میں پھانسی کا پھندہ لٹکایا گیا اور دیگر مسجدوں کے اندر علماء کرام کو پھانسی دی گئی۔ تھامسن اپنی یادداشت میں لکھتا ہے کہ میں دہلی گیا تو کیمپ میں ٹھہرا ہوا تھا۔ مجھے وہاں انسانی گوشت جلنے کی بدبو محسوس ہوئی۔ میں پریشان ہو کر اٹھا کہ یہ کیا معاملہ ہے؟ جب کیمپ کے پیچھے جا کر دیکھا تو کچھ انگریزوں نے انگارے جلائے ہوئے تھے۔ اور چالیس علماء کو بے لباس کر کے ان انگاروں کے پاس کھڑا کیا ہوا تھا اور انہیں یہ کہا جا رہا تھا کہ تم ہمیشہ کیلئے ہمارا ساتھ دینے کا وعدہ کرو‘ نہیں تو تمہیں انگاروں پر لٹا دیں گے۔ انہوں نے انکار کیا تو چالیس علماء کو انگاروں پر لٹا دیا گیا۔ یہ ان کے گوشت جلنے کی بدبو تھی جو خیموں میں بھی محسوس ہو رہی تھی۔ وہ کہتا ہے کہ اسی طرح چالیس علماء شہید وہ گئے تو پھر چالیس اور علماء کو بھی اسی طرح اوپر لٹایا گیا۔



















































