مولانا جعفر تھانیسری رحمتہ اللہ علیہ اپنی کتاب ’’تاریخ کالا پانی‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ہمارا علماء کا ایک قافلہ تھا‘ انگریز نے اس قافلے کو دہلی سے لاہور بھیجا مگر جس انگریز نے دہلی سے لاہور بھیجا اس نے ہمیں فقط ہتھکڑیاں لگائیں‘ لہذا ہم بڑے اطمینان سے اللہ اللہ کرتے ہوئے دہلی سے لاہور پہنچ گئے لیکن لاہور جیل کا انچارج بہت ہی جابر اورمتشدد قسم کا آدمی تھا‘ اس نے کہا یہ مولوی آرام کے ساتھ سفر کر کے یہاں آ گئے!
اب میں ان کو سبق سکھاؤں گا کہ یہ ہمارے ساتھ کیسے غداری کرتے ہیں اور ہمارے نمک حرام بنتے ہیں چنانچہ اس نے ریل گاڑی کے اندر چھوٹے چھوٹے کیبن بنوائے اور ہر کیبن میں چاروں طرف کیل لگوائے وہ فرماتے ہیں کہ ہمارے بیٹھنے کی جگہ کے چاروں طرف ایک ایک دو دو انچ کے فاصلے پر کیل لگے ہوئے تھے ان کیبنوں میں ہمیں بٹھایا گیا جب ریل گاڑی چلتی اور پیچھے جھٹکا لگتا تو ہمارے جسم پر پیچھے کیل چبھ جاتے‘ جب دائیں طرف جھٹکا لگتا تو دائیں طرف کیل چبھ جاتے‘ جب بائیں طرف جھٹکا لگتا تو بائیں طرف کیل چبھ جاتے‘ چلتی ہوئی گاڑی پر ہمیں پتہ نہیں ہوتا تھا کہ بریک لگنی ہے یا نہیں جب یک دم بریک لگتی تو ہمارے ان زخموں پر پھر کیل چبھتے۔ فرماتے ہیں کہ وہیں پسینہ بھی نکلتا اور خون بھی بہتا۔ سو بھی نہیں سکتے تھے‘ ہمیں انہوں نے لاہور سے ملتان بھیجنا تھا‘ یہ تکلیف دہ سفر ایک ماہ میں طے ہوا‘ ہم دن رات بٹیھے رہتے اور اسی جگہ پر ہمارا پیشاب پاخانہ بھی نکل جاتا تھا‘ مگر ہمارے لئے پانی وغیرہ کچھ بھی نہیں ہوتا تھا جس کی وجہ سے بدبو بھی بہت زیادہ تھی‘ اتنی سخت سزا اس لئے دی کہ ہم تنگ آ کر کہہ دیں کہ جی آپ جو کچھ کہتے ہیں ہم مان لیتے ہیں مگر قربان جائیں ان کی عظمتوں پر کہ انہوں نے یہ تکلیف تو برداشت کر لی مگر انہوں نے فرنگی کی بات کو ماننا پسند نہیں کیا۔
فرماتے ہیں کہ ایک مہینہ کے اتنے پرمشقت سفر کے بعد جب ہم ملتان پہنچے تو وہاں پر موجود حاکم نے کہا کہ ان لوگوں کو ہم کل پھانسی کے پھندے پر لٹکا دیں گے جب ہم نے پھانسی کی خبر سنی تو ہمارے دل خوش ہوئے کہ اب ہمیں اپنا مقصود نصیب ہو جائے گا۔ اگلے دن جب ہمیں پھانسی دینے کیلئے آیا تو اس نے دیکھا کہ ہمارے چہروں پر رونق تھی کیونکہ تھکاوٹ ختم ہو چکی تھی‘ ہمارے تر و تازہ چہروں کی رعنائی دیکھ کر وہ کہنے لگے! تمہارے چہرے پر مجھے تروتازگی کیوں نظر آ رہی ہے؟ ہم میں سے ایک نے جواب دیا کہ ہمارے چہرے اس لئے تروتازہ ہیں کہ آپ ہمیں پھانسی دیں گے تو ہمیں شہادت نصیب ہو جائے گی‘ جب اس نے یہ بات سنی تو وہیں سے واپس اپنے دفتر چلا گیا اور اس نے اپنی بڑی اتھارٹیز سے رابطہ کیا اور بتایا کہ یہ تو خوش ہیں کہ ان کو پھانسی دے دی جائے۔ چنانچہ نے اس نے واپس آ کر اعلان کیا کہ او ملاؤ! تم خوش ہو کر موت مانگتے ہو لیکن ہم تمہیں موت بھی نہیں دینا چاہتے ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ تمہیں کالا پانی بھیج دیا جائے
اس جگہ پر پہنچ کر مولانا جعفر تھانیسری فرماتے ہیں کہ اس سے بھی بڑی قربانی کا وقت وہ آیا جب وہ ہمیں کالا پانی بھیج رہے تھے۔ اس وقت انہوں نے منصوبہ بندی کے تحت ہمارے بیٹوں‘ بیٹیوں‘ بیویوں اور باقی چھوٹے بڑوں کو بلوا لیا اور ہمیں زنجیروں میں باندھ کر اور بیڑیاں پہنا کر ان کے سامنے پیش کیا اور ان سے کہا کہ تم انہیں منا لو! اگر یہ کہہ دیں کہ ہم فرنگی کے غدار نہیں ہیں تو ہم انہیں ابھی تمہارے ساتھ گھر بھیج دیتے ہیں‘ فرماتے ہیں کہ اب بیوی بھی رو رہی تھی‘ بیٹی بھی رو رہی تھی‘ میرا ایک چھوٹا بیٹا بھی رو رہا تھا اور میرے ساتھ لپٹ کر کہہ رہا تھا کہ ابو! آپ یہ کہہ کیوں نہیں دیتے بس آپ کہہ کر ہمارے ساتھ گھر چلیں‘ فرماتے ہیں کہ میرے لئے اس سے بڑا صبر آزما لمحہ کوئی نہیں تھا‘ جب میرا بیٹا اگر بہت زیادہ ررویا تو میں نے اپنی بیوی کو اشارہ کیا کہ بچے کو سینے سے لگاؤ اور اس بچے سے کہا‘ بیٹا! اگر زندگی رہی تو تمہارا باپ تمہیں دنیا میںآ کر ملے گا اور اگر نہ رہی تو پھر قیامت کے دن حوض کوثر پر ہماری ملاقات ہو گی۔



















































