امام اوزاعی رحمتہ اللہ علیہ شام میں رہتے تھے‘ انہوں نے امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کے بارے میں ایسی ویسی بہت سی باتیں سن رکھی تھیں‘ ایک مرتبہ امام ابوحنیفہؒ کے شاگرد عبداللہ بن مبارک امام اوزاعیؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے پوچھا‘ اے خراسانی! (عبداللہ بن مبارک کی نسبت ہے) ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کون شخص ہے میں نے سنا ہے وہ بہت گمراہ ہے۔ عبداللہ بن مبارک رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں خاموش ہو گیا‘
گھر آیا اور امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کے بیان کردہ مسائل پر مشتمل کتاب اٹھائی اور امام اوزاعی رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں پیش کر دی‘ انہوں نے مطالعہ کیا تو فرمانے لگے‘ اے خراسانی‘ یہ نعمان کون شخص ہے؟ اس کا علمی پایہ تو بہت بلند ہے اس سے تمہیں استفادہ کرنا چاہئے‘ میں نے کہا کہ یہ وہی امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ ہیں جن کے متعلق آپ باتیں سنتے رہتے ہیں۔ ان کا چہرہ فق ہو گیا اور کہنے لگے ہم نے کیا سنا تھا‘ حقیقت کیا تھی فرمایا اے خراسانی! اس کی صحبت اختیار کر اور فائدہ اٹھا۔ امام اوزاعی رحمتہ اللہ علیہ شام میں رہتے تھے‘ انہوں نے امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کے بارے میں ایسی ویسی بہت سی باتیں سن رکھی تھیں‘ ایک مرتبہ امام ابوحنیفہؒ کے شاگرد عبداللہ بن مبارک امام اوزاعیؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے پوچھا‘ اے خراسانی! (عبداللہ بن مبارک کی نسبت ہے) ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کون شخص ہے میں نے سنا ہے وہ بہت گمراہ ہے۔ عبداللہ بن مبارک رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں خاموش ہو گیا‘



















































