ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

وہی ڈاکو تھا

datetime 22  دسمبر‬‮  2016 |

ابو عمر زجاجی کے مکان سے جب ایک جنازہ اٹھا اور لوگوں نے حضرت ابو عمر زجاجی بے قراری دیکھی تو سب کو یہی گمان ہوا کہ شاید مرنے والا زجاجی کا حقیقی بھائی ہے چونکہ زجاجی اپنے علاقے کے مشہور علماء میں سے تھے اس لئے تعزیت کے واسطے آنے والوں کا ایک ہجوم تھا ایک آتا تھا اور ایک جاتا تھا کسی نے دریافت کر لیاکہ مرحوم آپ کے حقیقی بھائی تھے؟ زجاجی مسکرائے، فرمایا کہ سمجھ لو حقیقی ہی بھائی تھے۔

اس نے کہا کیا مطلب؟ اس کے بعد زجاجی نے جو واقعہ سنایا اس نے حاضرین کو حیرت زدہ کر دیا۔ زجاجی نے بتایا کہ مرحوم میرا حقیقی بھائی نہیں تھا بلکہ ابتدائے جوانی میں میری والدہ کا انتقال ہو گیا ان کے ترکے میں مجھے ایک گھر ملا میں نے اس گھر کو پچاس اشرفی میں فروخت کر دیا اور رقم کو ایک تھیلی میں ڈال کر کمر میں باندھ لیا حج کا مجھے بہت شوق تھا چنانچہ میں حج پر روانہ ہو گیا۔ راستے میں ایک ڈاکو ملا اس نے مجھے پکڑ لیا اور میرا سامان چھین لیا پھر کہا تیرے پاس نقدی کتنی ہے اس وقت میرے دل میں آیا کہجھوٹ بول دوں اور اگر میں نقدی کو بچانے کے لئے اس وقت جھوٹ بول دیتا تو اتنا گناہ بھی نہ ہوتا۔مگر میرے ضمیر نے کہا کہ جھوٹ بولنا اچھی بات نہیں ہے۔ سچ بولنے کے نتیجے میں زیادہ سے زیادہ اتنا ہی تو ہو گا کہ رقم چلی جائے گی ایمان تو سلامت رہے گا اس لئے میں نے صاف صاف کہہ دیا کہ میرے پاس 50 اشرفیاں ہیں اور ایک تھیلی میں رکھ کر میں نے انہیں کمر میں باندھ رکھا ہے۔ ڈاکو کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا اس نے کہا تم دکھاؤ۔ میں نے جھٹ تھیلی کمر سے کھولی اور اس کے حوالے کر دی اس نے گنا تو پوری 50 اشرفیاں تھیں۔ یہ دیکھ کر ڈاکو کی حالت تبدیل ہو گئی اور تھیلی مجھے واپس کر دی اور کہا تیرے سچ بولنے کی وجہ سے میں یہ تھیلی تجھے لوٹا رہا ہوں۔ لوٹا ہوا سامان بھی اس نے دے دیا سواری سے اتر پڑا اور کہا کہ آپ اس پر سوار ہو جائیے۔ میں نے کہا میں پیدل سفر کر رہا ہوں پیدل ہی سفر کروں گا۔

ڈاکو نے کہا میری غیرت ایمانی یہ گوارہ نہیں کرتی کہ آپ جیسا سچا آدمی پیدل سفر کرے اور میں سواری پر بیٹھوں۔ جو بھی ہو آپ کو سواری پر بیٹھنا ہو گا۔ آخر میں اس کے گھوڑے پر سوار ہو گیا۔ میں نے کہا ” آپ بھی بیٹھ جائیں” اس نے کہا آپ جیسے ایماندار اور سچے آدمی کے برابر سواری پر مجھ جیسا گناہ گار بیٹھنے کے قابل نہیں ہے۔ آج سے میں آپ کا غلام ہوں اور آپ میرے آقا۔ ساری زندگی آپ کی خدمت کروں گا۔ شاید آپ کی خدمت کے طفیل میں اللہ تعالیٰ میرے گناہ معاف کر دے” ۔ میرے دوست آج مرنے والا میرا بھائی نہیں تھا وہی ڈاکو تھا جس نے ساری زندگی میری خدمت کی مجھے یقین ہے کہ مرتے وقت وہ اللہ کا ولی تھا سچائی نے مجھے بچایا اور خدمت نے اسے اللہ کا ولی بنا دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…