جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

ایک ہفتہ کہاں تھا

datetime 22  دسمبر‬‮  2016 |

حضرت سعد بن مسیب رحمتہ اللہ علیہ اگر پریشان تھے تو بے وجہ پریشان نہیں تھے کیونکہ اس کے درس میں شریک ہونے والا وہ طالب علم کبھی بھی غیر حاضر نہیں ہوتا تھا اور ادھر وہ ایک ہفتے سے غائب تھا ان کے ذہن میں طرح طرح کے وسوسے پیدا ہو رہے تھے نہ معلوم بیچارے کو کوئی حادثہ پیش آ گیا یا بیمار ہے اس کا کچھ اتہ پتہ بھی نہیں تھا کہ کسی دوسرے شاگرد کو بھیج کر اس کی خیریت معلوم کرواتے۔

اس زمانے میں استاد اپنے طالب علموں کو صرف درس دینے پر ہی اکتفا نہیں کرتے تھے بلکہ ان کے روز و شب کے معمولات ، ان کے گھریلو حالات اور ان کی صحبتوں سے بھی باخبر رہتے تھے کیونکہ اسلام میں تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت صحیح نہ ہو تو زندگی بھرا جڈ اور گنوار رہتا ہے اور علم کا نور صحیح معنوں میں اس کے قلب و نظر کو منور نہیں کر پاتا وہ عالم تو بن جاتا ہے انسان نہیں بن پاتا اور ہر شخص جانتا ہو گا کہ انسان بننا بہت مشکل ہے۔سعید بن مسیب رحمتہ اللہ علیہ اپنے شاگردوں کی تربیت کا خاص خیال رکھتے تھے اس لئے جب پورا ایک ہفتہ گزر گیا اور ان کا وہ شاگرد نہیں آیا تو کچھ بے چین سے ہو گئے مگر اتفاقاً دوسرے دن جب درس میں آئے تو دیکھا کہ وہ طالب علم بیٹھا ہوا ہے بڑا غم زدہ اور بہت ہی پریشان حال دریافت کیا “بھائی! تو ایک ہفتہ کہاں تھا؟ “

اس نے کہا ” حضرت! میری بیوی کی وفات ہو گئی تھی میں اس کی تجہیز و تکفین میں مصروف رہا تعزیت کے لئے لوگ آئے تھے اس لئے حاضر نہ ہو سکا” دریافت فرمایا ” اب کیا ارادے ہیں؟ دوسری شادی نہیں کرو گے؟” طالب علم نے جواب دیا “حضرت ! مجھ فقیر قلاش اور مفلوک الحال آدمی کو بھلا کون رشتہ دے گا؟ دن بھر پڑھائی کرتا ہوں رات میں مزدوری کرتا ہوں” طالب علم جب یہ کہہ رہا تھا تو سعید بن مسیب ؒ کے ذہن میں اپنی اکلوتی عالمہ فاضلہ حسین و جمیل اور نہایت صالح بیٹی کا تصور گردش کر رہا تھاجس کا پیغام شاہزادے نے دیا تھا مگر سعید بن مسیب ؒ نے یہ کہہ کر نامنطور کر دیا تھا کہ شہزادہ تقویٰ کے اس معیار پر پورا نہیں اترتا جو میں چاہتا ہوں۔

حضرت سعید بن مسیب ؒ نے جو اس طالب علم کو اچھی طرح جانتے تھے اسے مخاطب کر کے فرمایا” میری بیٹی سے شادی کرو گے؟” طالب علم تو بھونچکا ہو گیا، کہا “حضرت! کیا یہ ممکن ہے؟” فرمایا کہ ” ہاں” ۔ طلبہ کو جمع کیا ایجاب و قبول ہوا اور نکاح ہو گیا۔ سعید بن مسیب ؒ سوائے مسجد کے کسی کے گھر نہیں جاتے تھے مگر رات کو بیٹی کو ساتھ لیا اور طالب علم کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ فرمایا یہ تمہاری زوجہ کو ساتھ لایا ہوں اب یہ اس گھر میں موت تک زندگی گزارے گی۔ نہ رتجگانہ رسم مہندی نہ جہیز نہ کوئی ہنگامہ مومنوں کی بیٹیاں اسی طرح بیاہی جاتی ہیں کیونکہ معیار تقویٰ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…