جامع مسجد دمشق کے متولی کے مال و دولت کو دیکھ کر کمزور ایمان والا شاید ہی کوئی شخص اپنے آپ کو سنبھال سکتا۔ متولی کی طرف لوگوں کی بڑی رجوع تھا اور وہ عبادت گزار بھی تھا۔ نذر و نیاز کے ڈھیر اس کے سامنے پڑے رہتے۔ ایک شخص نے اس کی جو یہ حالت دیکھی تو اس کے منہ میں پانی بھر آیا ۔ شیطان نے اس کے دل میں وسوسہ ڈالا کہ تم بھی دکھاوے کی عبادت کرو لوگوں پر اپنے تقویٰ اور طہارت کا رعب ڈالو تو
تمہاری طرف بھی لوگوں کی اسی طرح رجوع ہو جائے گی۔پہلے و صوفی اللہ کے لئے تھوڑی بہت عبادت کر لیتا لیکن شیطان کے وسوسہ ڈالنے کے بعد وہ ہر ایسے مقام پر اور ہر ایسے وقت میں عبادت میں مشغول ہوتا تاکہ آنے جانے والوں کی نظر اس پر پڑے مگر کسی قسم کی رجوع شروع نہ ہوئی اور جیسا وہ پہلے قلاش تھاا سی طرح قلاش رہا ایک رات اللہ کی رحمت اس کی طرف متوجہ ہوئی اور اس کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ میں بھی کتنا ناپاک اور گندا ہوں کہ عبادت تو کرتا ہوں خدا کی اور رضا مندی طلب کرتا ہوں خلق خدا کی۔ میرے تو یہ سارے نوافل اور ساری تلاوت اور شب بیداری ضائع ہو گئی “نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم” اس خیال کا آنا تھا کہ احساس ندامت کے باعث اس کے جسم پر لرزہ طاری ہو گیا اور سربسجود ہو کر بارگاہ خداوندی میں خلوص دل سے توبہ کی اور وعدہ کیا کہ بار الہی! آئندہ صرف تیری رضا کے لئے عبادت کروں گا توبہ قبول ہوئی اور صوفی خلوص دل کے ساتھ عبادت خداوندی میں مصروف ہو گیا۔ اس مرتبہ اس نے کوئی ریا کاری نہیں کی نہ اس نے کسی کو اپنی عبادت دکھانا چاہی لیکن پندرہ دن بھی نہ گزرے کہ دمشق کا حاکم انتہائی عقیدت کے ساتھ اس سے ملنے آیا ملاقات کر کے جب رخصت ہونے لگا تو اس نے اشرفیوں کے چند توڑے
اور جامع دمشق کی تولیت کی دستاویز صوفی کی خدمت میں پیش کی اور عرض کیا کہ آپ اسے قبول فرما لیں مگر نیت کے خلوص نے صوفی کو اس مقام پر پہنچا دیا تھا جہاں انسان کی نگاہ میں پتھر اور سونا برابر ہو جاتے ہیں اس نے حاکم سے کہا محترم آپ کا بہت بہت شکریہ مگر میں نے تو اللہ تعالیٰ سے وعدہ کر رکھا ہے کہ جو کچھ لوں گا اسی سے لوں گا اور کسی کے آگے دست سوال دراز نہیں کروں گا مہربانی کر کے یہ ساری چیزیں اٹھا لے جاؤ۔



















































