ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

اب میری بکریاں کون دوہے گا

datetime 21  دسمبر‬‮  2016 |

حضور ﷺ کی وفات مسلمہ کے لئے ایک جانکاہ صدمہ تھا۔ بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ کرامؓ کی ہمت ٹوٹ گئی تھی۔ کسی کو ہوش نہ تھا اگر اس وقت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کا تشریف لانا اور منبر پر کھڑے ہو کر یہ اعلان فرمانا کہ ” لوگو! تم میں سے جو شخص محمد رسول ﷺ کی عبادت کرتا تھا، اسے جان لینا چاہئے کہ اس کے معبود کی وفات ہو گئی اور تم میں سے جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا، اسے جان لینا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ حی القیوم ہے” ۔

صدیق اکبرؓ کے جملے نے صحابہ کرامؓ کی آنکھیں کھول دیں۔گمشد گان راہ کو نشان منزل ملا۔ڈولتی ہوئی کشتی کو لنگر میسر آیا اور گھٹاٹوپ تاریکی میں امید کی کرن نمودار ہوئی پھر مسئلہ خلافت کا در پیش ہوا اور ثقیفہ بنی ساعدہ میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی خلافت کا اعلان ہونے کے بعد لوگوں کو اطمینان میسر آیا اور لوگ خوش ہو گئے۔ مگر ایک یتیم لڑکی دوڑی ہوئی خلیفہ کے پاس آئی اور بہت غمزدہ انداز میں کہا ” ابوبکرؓ اب تو آپ خلیفہ ہو گئے ہیں، اب ہماری بکریوں کو کون دوہے گا؟ آپ روزانہ شام کو ہمارے گھر آ کر یہ خدمت انجام دیتے تھے۔ اب دیکھئے ہمارا کیا بنتا ہے” ۔ حضرت ابوبکرؓ قیصر و کسریٰ کے جانشین نہیں تھے کہ اپنے عشرت کدے سے نکلنا گوارا نہ کرتے، فرمایا کہ بیٹی تو نہ گھبرا میں خلیفہ بن گیا تو کیا مجھ میں لعل ٹک گئے۔ میرا معمول جاری رہے گا کیونکہ قوم کا سردار قوم کا خادم ہوتا ہے اور یتیموں بیواؤں کی خدمت تو عین عبادت ہے۔ سیدنا ابوبکر صدیق ؓ خلیفہ ہونے کے باوجود دوران خلافت نہایت پابندی سے بکریاں دوہنے کی یہ خدمت انجام دیتے رہے لیکن جس دن ان کی وفات ہوئی کوئی رو رہا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کا یار غار ہم سے رخصت ہو گیا۔ کوئی اس لئے رو رہا تھا کہ مملکت اسلامیہ کو قرار و استحکام بخشنے والا رخصت ہو گیا۔ کوئی اس لئے غمزدہ تھا کہ جامع قرآن دنیا سے سفر کر گیا اور وہ یتیم بچی غم و اندوہ کی تصویر بنی ہوئی ابوبکر صدیق ؓ کے دروازے کے چوکھٹ پکڑے اس لئے رو رہی تھی کہ اب میری بکریاں کون دوہے گا یتیموں کا والی اور بیواؤں کا وارث تو دنیا سے منہ موڑ کر چلا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…