حضور ﷺ کی وفات مسلمہ کے لئے ایک جانکاہ صدمہ تھا۔ بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ کرامؓ کی ہمت ٹوٹ گئی تھی۔ کسی کو ہوش نہ تھا اگر اس وقت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کا تشریف لانا اور منبر پر کھڑے ہو کر یہ اعلان فرمانا کہ ” لوگو! تم میں سے جو شخص محمد رسول ﷺ کی عبادت کرتا تھا، اسے جان لینا چاہئے کہ اس کے معبود کی وفات ہو گئی اور تم میں سے جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا، اسے جان لینا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ حی القیوم ہے” ۔
صدیق اکبرؓ کے جملے نے صحابہ کرامؓ کی آنکھیں کھول دیں۔گمشد گان راہ کو نشان منزل ملا۔ڈولتی ہوئی کشتی کو لنگر میسر آیا اور گھٹاٹوپ تاریکی میں امید کی کرن نمودار ہوئی پھر مسئلہ خلافت کا در پیش ہوا اور ثقیفہ بنی ساعدہ میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی خلافت کا اعلان ہونے کے بعد لوگوں کو اطمینان میسر آیا اور لوگ خوش ہو گئے۔ مگر ایک یتیم لڑکی دوڑی ہوئی خلیفہ کے پاس آئی اور بہت غمزدہ انداز میں کہا ” ابوبکرؓ اب تو آپ خلیفہ ہو گئے ہیں، اب ہماری بکریوں کو کون دوہے گا؟ آپ روزانہ شام کو ہمارے گھر آ کر یہ خدمت انجام دیتے تھے۔ اب دیکھئے ہمارا کیا بنتا ہے” ۔ حضرت ابوبکرؓ قیصر و کسریٰ کے جانشین نہیں تھے کہ اپنے عشرت کدے سے نکلنا گوارا نہ کرتے، فرمایا کہ بیٹی تو نہ گھبرا میں خلیفہ بن گیا تو کیا مجھ میں لعل ٹک گئے۔ میرا معمول جاری رہے گا کیونکہ قوم کا سردار قوم کا خادم ہوتا ہے اور یتیموں بیواؤں کی خدمت تو عین عبادت ہے۔ سیدنا ابوبکر صدیق ؓ خلیفہ ہونے کے باوجود دوران خلافت نہایت پابندی سے بکریاں دوہنے کی یہ خدمت انجام دیتے رہے لیکن جس دن ان کی وفات ہوئی کوئی رو رہا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کا یار غار ہم سے رخصت ہو گیا۔ کوئی اس لئے رو رہا تھا کہ مملکت اسلامیہ کو قرار و استحکام بخشنے والا رخصت ہو گیا۔ کوئی اس لئے غمزدہ تھا کہ جامع قرآن دنیا سے سفر کر گیا اور وہ یتیم بچی غم و اندوہ کی تصویر بنی ہوئی ابوبکر صدیق ؓ کے دروازے کے چوکھٹ پکڑے اس لئے رو رہی تھی کہ اب میری بکریاں کون دوہے گا یتیموں کا والی اور بیواؤں کا وارث تو دنیا سے منہ موڑ کر چلا گیا تھا۔



















































