حضرت غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کو اولیاء اللہ میں جو باعزت مقام حاصل ہے صدیوں سے بزرگان دین اس کا اعتراف کرتے آئے ہیں آپ کے بارے میں مشہور ہے کہ آپ مادر زاد ولی تھے ۔ آپ نے نہایت پاکیزہ بچپن اور بے داغ جوانی گزاری ہزارہا کفار و مشرکین نے آپ کے دست حق پر اسلام قبول کیا اور لاکھوں کم گردہ راہ فاسق و فاجر آپ کی تربیت سے ولایت و بزرگی کے اعلیٰ منازل پر فائز ہوئے۔
آپ کی مجلس میں ہزار ہا افراد کا اجتماع ہوتا اور کوئی ایک فرد بھی مجلس سے خالی ہاتھ نہ اٹھتا ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی زبان مبارک کو ایسی تاثیر بخشی تھی کہ بعض اوقات آپ کے مواعظ سن کر چند لوگوں کا دم نکل جاتا تھا ۔ ایک دن آپ نے ارشاد فرمایا! مصیبت پر صبر کرنا تو عورتوں اور کم ہمتوں کا کام ہے مرد تو صبر پر شکر ادا کرتے ہیں۔ اس جملے پر بعض حضرات کے دل میں خلجان پیدا ہوا کہ مصیبت میں کس طرح شکر کیا جا سکتا ہے؟ کسی میں ہمت نہ تھی کہ آپ سے یہ سوال کرتا لیکن آپ کے صاحبزادہ گرامی سید عبدالرزاق رحمتہ اللہ علیہ چونکہ آپ کے بہت قریب رہا کرتے تھے اور کسی قدر آپ سے آزادانہ گفتگو کر لیتے تھے انہوں نے تنہائی میں والد بزرگوار سے دریافت کیا حضور! اس کا کیا مطلب ہے کہ مرد تو مصیبت پر شکر ادا کرتے ہیں مصیبت پر کس طرح شکر کیا جا سکتا ہے۔ سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا تو نے وہ حدیث نہیں پڑھی کہ جس شخص کے ایک کانٹا چبھتا ہے اس کا ایک گناہ معاف ہو جاتا ہے اور ایک نیکی اس کے نامہ اعمال میں لکھی جاتی ہے جس کو ایک روز بخار آتا ہے اس کے ایک سال کے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں تو تیرے خیال میں کیا یہ شکر کا مقام نہیں؟کہ بندہ ایک دن مصیبت اٹھا ئے
اور بخار کی اذیت سہہ لے اور ایک سال کے گناہ معاف ہو جائیں۔ بندہ جب دکھ میں ہوتا ہے تو اس کے دل میں گداز ہوتا ہے اور گداز مولا کی توجہ کو بندے کی طرف مائیل کرتا ہےشاید یہی وجہ ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ مریض کی عیادت کو جاؤ تو اس کی صحت یابی کے لئے دعا کرو اور اس سے اپنے لئے دعا کراؤ۔ کیونکہ وہ دکھ کی وجہ سے اللہ کے قریب ہوتا ہے۔ دکھ طلب نہیں کرنا چاہئے لیکن اگر آ جائے تو صبر و شکر کے ساتھ اسے برداشت کر لینا چاہئے کہ شاید اسی میں بندے کی بھلائی ہو۔



















































